🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

401. باب الإفاضة من عرفات إِلى المزدلفة، واستحباب صلاتي المغرب والعشاء جمعا بالمزدلفة في هذه الليلة
باب: عرفات سے مزدلفہ لوٹنا اور اسی رات مغرب وعشاء جمع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
807 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَة، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات سے واپس ہوئے، جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا، تب میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے“ (یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے)، جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 6 باب إسباغ الوضوء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
808 صحيح حديث أُسَامَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز، لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو (زیادہ) تیز چلتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 92 باب السير إذا دفع من عرفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
809 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں آن کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 96 باب من جمع بينهما ولم يتطوع»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
810 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر سفر میں جلد چلنا منظور ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 18 كتاب تقصير الصلاة: 13 باب الجمع في السفر بين المغرب والعشاء»
وضاحت: سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کا جمع کرنا اہلحدیث،امام احمد، امام شافعی، ثوریٰ اور اسحاق سب کے نزدیک جائز ہے۔ خواہ جمع تقدیم کرے یعنی ظہر کے وقت عصر اور مغرب کے وقت عشاء پڑھ لے خواہ جمع تاخیر کرے یعنی عصر کے وقت ظہر اور عشاء کے وقت مغرب پڑھ لے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں