اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
410. باب وجوب المبيت بمنى ليالي أيام التشريق والترخيص في تركه لأهل السقاية
باب: ایام تشریق میں منیٰ میں رات گذارنا واجب لیکن حاجیوں کو پانی پلانے والوں کے لیے رخصت ہے
حدیث نمبر: 828
828 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حاجیوں کو زمزم کا) پانی پلانے کے لیے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 75 باب سقاية الحاج»
وضاحت: ممنیٰ کی راتوں سے مراد گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔(مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»