اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
746. باب جواز أخذ الأجرة على الرقية بالقرآن والأذكار
باب: قرآن یا دعا سے دم کر کے اس پر اجرت لینا
حدیث نمبر: 1420
1420 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه، قَالَ: انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذلِكَ الْحَيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ شَيْءٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِين نَزَلُوا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لأَرْقِي، وَلكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بَرَاقٍ لَكمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعِ مِنَ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ (الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ: فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا، حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ، فَنَنْظرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمُ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنهم سفر میں تھے، دورانِ سفر وہ عرب کے ایک قبیلے پر اترے۔ صحابہ رضی اللہ عنهم نے چاہا کہ قبیلے والے انہیں اپنا مہمان بنا لیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلے والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آ کر اترے ہیں، ممکن ہے کوئی دم جھاڑ کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلے والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے، اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا، کیا تمہارے پاس کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اسے جھاڑ دوں گا، لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا، اس لیے میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو، وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا اور تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ رضی اللہ عنهم کو ادا کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کر لو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر لیں، اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورت فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔“ یہ فرما کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 16 باب ما يعطَى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب»