اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
747. باب لكل داء دواء واستحباب التداوي
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1421
1421 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، خَيْرٌ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ الدَّاءَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 4 باب الدواء بالعسل»
حدیث نمبر: 1422
1422 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ (اگر پچھنا لگوانا ناجائز ہوتا تو آپ نہ پچھنا لگواتے نہ اجرت دیتے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 18 باب خراج الحجام»
حدیث نمبر: 1423
1423 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْتَجِمُ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِم أَحَدًا أَجْرَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 18 باب خراج الحجام»
حدیث نمبر: 1424
1424 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے، اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 10 باب صفة النار وأنها مخلوقة»
حدیث نمبر: 1425
1425 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، كَانَتْ، إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ قَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا، أَخَذَتِ الْمَاءَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَبْرُدَهَا بِالْمَاءِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں، وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ: ”بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 27 باب الحمى من فيح جهنم»
حدیث نمبر: 1426
1426 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحُمَّى مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے، پس اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 28 باب الحمى من فيح جهنم»