🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

817. باب في فضل عائشة رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1579
1579 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى أَنَّكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، وَيَقُولُ: هذِهِ امْرَأَتكَ، فَاكْشِفْ عَنْهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی ہو۔ میں نے دیکھا کہ تم ایک ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی ہو اور کہا جا رہا ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، ان کا چہرہ کھولیے، میں نے چہرہ کھول کر دیکھا تو تم تھیں، میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے تو وہ خود اس کو پورا فرمائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 44 باب تزويج النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشة وقدومها المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1580
1580 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قَالَتْ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذلِكَ فَقَالَ: أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ: لاَ، وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى، قلْتِ: لاَ، وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قلْتُ: أَجَلْ وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔“ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1580]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 108 باب غيرة النساء ووجدهن»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1581
1581 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي؛ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں، پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1581]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 81 باب الانبساط إلى الناس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1582
1582 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِهَا، أَوْ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ، مَرْضَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) تحائف بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے، اپنے ہدایا سے یا اس خاص دن کے انتظار سے (راوی کو شک ہے) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 7 باب قبول الهدية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1583
1583 صحيح حديث عَائِشةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدورُ عَلَيَّ فِيهِ، فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے: ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے، پھر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں قیام فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی وہیں ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدے کے مطابق میرے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سرِ مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1584
1584 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَيَّ ظَهْرَهُ يَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وفات سے کچھ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پشت سے ان کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ نے کان لگا کر سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور میرے رفیقوں سے مجھے ملا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1585
1585 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَسَمِعْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: (مَعَ الَّذِين أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ) الآيَةَ فَظَننْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت میں رہنے کا اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے، آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی، آپ آیت ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة النساء: 69] کی تلاوت فرما رہے تھے (یعنی ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے“)، مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1586
1586 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ فَلَمَّا اشْتَكَى، وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ، وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ، غُشِيَ عَلَيْهِ فَلمَّا أَفَاقَ، شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى فَقُلْتُ: إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تندرستی کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی گئی تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھا دی گئی، پھر اسے اختیار دیا گیا“ (راوی کو شک تھا کہ لفظ یحییٰ ہے یا یُخیّر، دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے) پھر جب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے اور وقت قریب آ گیا تو سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی تھی، جب کچھ ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اٹھ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» ”اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ میں۔“ میں سمجھ گئی کہ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں (یعنی دنیاوی زندگی کو) پسند نہیں فرمائیں گے۔ مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرستی کے زمانے میں فرمائی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1586]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1587
1587 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَكَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ: أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكَ تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ فَقَالَتْ: بَلَى فَرَكِبَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ، وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلوا وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلُوا، جَعَلَتْ رِجْلَيْهَا بَيْنَ الإِذخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي، وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ ڈالتے۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام کا نکلا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت حسب معمول چلتے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے۔ ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو اور میں بھی۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور (ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر) سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا، پھر چلتے رہے، جب پڑاؤ ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں (اس غلطی پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس درجہ رنج ہوا کہ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المومنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس (جس میں زہریلے کیڑے بکثرت رہتے تھے) میں ڈال لیے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ یہ حرکت خود میری ہی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1587]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 97 باب القرعة بين النساء إن أراد سفرًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1588
1588 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے سنا ہے: ”عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 30 باب فضل عائشة رضي الله عنها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں