المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. ما جاء في الثياب للصلاة
نماز کے کپڑوں کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ:" أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: أُوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟!" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 358، صحيح مسلم: 275/515»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ بھی نہ ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 359، صحيح مسلم: 516»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَرَزَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حَتَّى أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَسْجِدِهِ، وَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا، ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَجَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ" .
عبادہ بن ولید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد ایک دن سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مسجد میں آئے، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میرے اوپر دھاری دار چادر تھی۔ میں اس کے کنارے الٹنے لگا (تا کہ گردن سے باندھ لوں) لیکن وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی، اس کے پھندنے تھے، میں نے اسے الٹ کر اس کے کناروں کو مخالف سمت کر لیا، میں نے اسے (گرنے سے بچانے کے لیے) گردن سے روکے رکھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، تو آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، اتنے میں سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے اور وضو کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ہمیں دھکیلا اور اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مجھے دیکھ رہے تھے، لیکن مجھے پتہ نہ چلا، پھر مجھے پتہ چلا، تو آپ ہاتھ (کے اشارے) سے کہہ رہے تھے: ایسے کرو، یعنی درمیان میں باندھ لیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر!، عرض کیا: اللہ کے رسول! حاضر ہوں، فرمایا: جب کپڑا وسیع ہو، تو دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر ڈال لیا کریں اور اگر تنگ ہو، تو اسے کمر پر باندھ لیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 3008»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَأَبُو الْوَلِيدِ ، قَالا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةَ حَائِضٍ إِلا بِخِمَارٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز دوپٹہ اوڑھنی) کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 150/6 - 218، سنن أبى داوٗد: 641، سنن الترمذي: 377، سنن ابن ماجه: 566، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ الله نے ”حسن“، امام ابن خزيمه رحمہ الله 775، اور امام ابن حبان رحمہ الله 1711 نے ”صحيح“ كها هے، امام حاكم رحمہ الله 251/1 نے امام مسلم رحمہ الله كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ الله نے ان كي موافقت كي هے، معجم لا بن الاعرابي 996، و سنده صحيح ميں قتاده ”مدلس“ كي متابعت امام ايوب سختياني رحمہ الله نے كر ركهي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
سعید بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں! [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 386، صحيح مسلم: 555»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه