المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب القراءة وراء الإمام
امام کے پیچھے قرأت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْغَدَاةِ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا، قَالَ: فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرآت گراں ہو گئی، جب سلام پھیرا تو فرمایا مجھے لگتا ہے کہ اپ اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہیں ہم نے عرض کیا: جی ہاں!! اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں فرمایا: ام القران (سورۃ فاتحہ) کہ علاوہ کچھ نہ پڑھا کریں، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/322، سنن أبي داود: 823، سنن الترمذي: 311، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1581) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1848) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 2/166) نے صحیح کہا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، جبکہ امام دار قطنی رحمہ اللہ (سنن الدارقطنی: 1/319) نے سند کو حسن قرار دیا ہے۔ حافظ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ لَّا مَطْعَنَ فِيهِ (معالم السنن: 2058) حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 3/547) نے بھی اس کی سند کو جید کہا ہے، اس حدیث کے راوی محمد بن اسحاق جمہور محدثین کرام کے نزدیک حسن الحدیث ہیں، انہوں نے مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے، علاء بن حارث نے ان کی متابعت بھی کی ہے۔ (كتاب القراءة: 115، وسنده حسن)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: ثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: امام جب آمین کہے تو آپ بھی آمین کہیں، کیوں کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافق ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 780، صحيح مسلم: 410»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت (وقت پر) پالی اس نے نماز پالی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 580، صحيح مسلم: 607»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلا بِالسُّجُودِ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، فَإِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ" .
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکوع وسجود میں مجھ سے آگے نہ نکلو، کیوں کہ میں جس قدر آپ سے پہلے رکوع کروں گا، اتنا وقت آپ کو میرے رکوع سے اٹھتے وقت مل جائے گا اور جس قدر آپ سے پہلے سجدہ کروں گا، اتنا وقت آپ کو میرے سجدہ سے اٹھتے وقت مل جائے گا، کیوں کہ میرا جسم بھاری ہو گیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيح: مسند الحميدي: 613، مسند الإمام أحمد: 4/92-98، سنن أبي داود: 619، سنن ابن ماجه: 963، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1594) اور ابن حبان رحمہ اللہ (2229) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيح
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا النَّضْرُ ، قَالَ: أَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امام سے پہلے سجدے سے سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر گدھے کے سر جیسا کر دے یا اس کی شکل گدھے کی شکل میں تبدیل کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 691، صحيح مسلم: 427»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح