المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
امام کے پیچھے قرأت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْغَدَاةِ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا، قَالَ: فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو آپ پر قرآت گراں ہو گئی، جب سلام پھیرا تو فرمایا مجھے لگتا ہے کہ اپ اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہیں ہم نے عرض کیا: جی ہاں!! اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں فرمایا: ام القران (سورۃ فاتحہ) کہ علاوہ کچھ نہ پڑھا کریں، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 5/322، سنن أبي داود: 823، سنن الترمذي: 311، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1581) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1848) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 2/166) نے صحیح کہا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، جبکہ امام دار قطنی رحمہ اللہ (سنن الدارقطنی: 1/319) نے سند کو حسن قرار دیا ہے۔ حافظ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ لَّا مَطْعَنَ فِيهِ (معالم السنن: 2058) حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 3/547) نے بھی اس کی سند کو جید کہا ہے، اس حدیث کے راوی محمد بن اسحاق جمہور محدثین کرام کے نزدیک حسن الحدیث ہیں، انہوں نے مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے، علاء بن حارث نے ان کی متابعت بھی کی ہے۔ (كتاب القراءة: 115، وسنده حسن)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
محمود بن الربيع الخزرجي ← عبادة بن الصامت الأنصاري