المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
0. باب النكاح
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّباب، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا: ”اے نوجوانو! جو نان نفقہ کی طاقت رکھتا ہو، وہ شادی کرے، کیونکہ نکاح نگاہ نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ روزے رکھے، کیونکہ اس سے شہوت میں کمی آجائے گی۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5066، صحیح مسلم: 1400»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، ح وَثَنًا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: ثني أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل (شادی نہ کرنے) سے منع فرمایا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهد: مسند الإمام أحمد: 17/5، سنن النسائي: 3216، سنن الترمذي: 1082، سنن ابن ماجه: 1849، قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی،اس کے مسند الامام احمد (158/3، 235، وسندہ حسن) وغیرہ میں صحیح شواہد ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهد
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ قَالَ: " أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَعْدٌ: فَلَوْ أَجَازَ ذَلِكَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَيْنَا" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتل کرنا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا۔ سیدنا سعد بیان کرتے ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 674]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5073، صحیح مسلم: 1402»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟، قَالَ: قُلْتُ: لا، قَالَ: " فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں! فرمایا: اسے دیکھ لیں، اس طرح زیادہ توقع ہے کہ آپ کے درمیان الفت پیدا ہو جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لانقطاعه والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 244/4، 245، 246، سنن النسائي: 3235، سنن الترمذي: 1087، سنن ابن ماجه: 1866، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے، بکر بن عبد اللہ مزنی کا سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَمْ يَسْمَعْ بَكْرٌ مِّنَ الْمُغِيرَةِ . تهذيب التهذيب لابن حجر: 484/1) امام ابو عوانہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فِي سَمَاع بَكْرٍ مِّنَ الْمُغِيرَةِ نَظَرٌ. (صحيح أبي عوانة: 4036) امام حاكم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ إِنَّمَا يَرْوِي عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ . (سؤالات السجزي للحاكم: 166) باقی ابو معاویہ کی متابعت موجود ہے، اگلی حدیث اس کا شاہد ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لانقطاعه والحديث صحيح
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَدْوَمُ لِمَا بَيْنَكُمَا" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھ لو، کیونکہ اس طرح آپ کے درمیان زیادہ الفت پیدا ہوگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 676]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن ابن ماجه: 1865، سنن الدارقطني: 253/3، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4043) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (165/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ معمر کی ثابت سے روایت میں کلام ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَلِيٌّ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَنَاجَشُوا، وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا" ، زَادَ عَلِيٌّ: لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ بچاؤ (یعنی قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا) مت کرو، کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، اور کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ اس کے برتن کو اُنڈیل دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 677]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2140، صحیح مسلم: 1413»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ: أنا زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَنْبَغِي لامْرَأَةٍ أَنْ تَشْتَرِطَ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ إِنَاءَهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کی شرط لگائے تاکہ اس کے برتن کو اُنڈیل دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 678]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5152»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أنا عَبْثَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، فَقَالَ: وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ، أَنْ يَقُولَ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاثَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ: اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 وَ اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور ضرورت کے لیے تشہد سکھایا۔ چنانچہ انہوں نے تشہدِ نماز اور تشہدِ حاجت دونوں بیان کیے اور فرمایا: تشہدِ حاجت یوں پڑھنا چاہیے: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمَنْ يَهْدِهِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفوس کے شرور سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پھر تین آیات کی تلاوت کرے: ﴿اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102) ﴿وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (النساء: 1) ﴿اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ (الأحزاب: 70) (اللہ تعالیٰ سے ویسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اسلام پر ہو۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور رشتہ داروں کا خیال رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور درست بات کہو)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 679]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيفٌ: مسند الإمام أحمد: 393/1، سنن أبي داود: 2118، سنن الترمذي: 1105، سنن النسائي: 1165، سنن ابن ماجہ: 1892، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4143) نے صحیح کہا ہے۔ ابو اسحاق سبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، جہاں ان سے شعبہ بیان کرتے ہیں، وہاں تدلیس کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے لیکن وہاں انقطاع کی وجہ سے سند معلول ہے، ابو عبیدہ نے اپنے باپ سید نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: فَإِنَّهُ عِنْدَ الْأَكْثَرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . (موافقة الخبر الخبر:364/1) نیز فرماتے ہیں: وَهُوَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ عِنْدَ الجُمْهُورِ (النكت على کتاب ابن الصلاح: 398/1)، مزید فرماتے ہیں: وَالرَّاجِحُ أَنَّهُ لَا يَصِحُ سَمَاعُهُ مِنْ أَبِيهِ (تقريب التهذيب: 8231) السنن الكبرى للبيهقي (146/7) وغیرہ میں اس کا ایک ”ضعیف“ شاہد بھی ہے، جو حریث بن ابی مطر فزاری "ضعیف" کی وجہ سے ضعیف ہے، اسی طرح دوسرا شاہد قتادہ مدلس کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيفٌ
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثنا زُهَيْرٌ ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ فَقَالَ: فَأَفْعَلُ مَاذَا؟ قَالَتْ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: " أُخْتَكِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَسْتُ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِي، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ، أَوْ ذَرَّةَ الشَّكُّ مِنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضَنَّ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلا أَخَوَاتِكُنَّ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن میں رغبت ہے؟ فرمایا: میں اسے کیا کروں؟ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں۔ فرمایا: آپ کی بہن سے؟ کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ عرض کیا: میں تنہا آپ کی بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میری بہن بھی اس سعادت (آپ کی زوجیت) میں میرے ساتھ شریک ہو جائے۔ فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے (کیونکہ دو بہنیں ایک ساتھ نکاح میں نہیں ہو سکتیں)۔ انہوں (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ یا ذرہ کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ام سلمہ کی بیٹی کو؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ (بیوی کی وہ بیٹی جو پہلے خاوند سے ہو) نہ بھی ہوتی تو بھی وہ میرے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے والد دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا آپ اپنی بیٹیاں اور بہنیں مجھے (شادی کے لیے) پیش نہ کیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 680]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5106، صحیح مسلم: 1449»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ بْنُ حَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، انہوں نے جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کی گردن مارنے (قتل کرنے) اور اس کا مال چھیننے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کر لیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 681]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 4457، سنن النسائي: 3334، اس حدیث کو علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (المحلى: 252/11) نے ”صحیح یقینی الاسناد“ کہا ہے۔ اس کی بہت سی سندیں ہیں، حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْحَدِيثُ لَهُ طُرُقٌ حِسَانٌ يُؤَيِّدُ بَعْضُهَا بَعْضًا (تهذيب السنن: 266/6) یہ حدیث مسند الامام احمد (290/4) سنن نسائی (3333) میں بسند صحیح اور اسی طرح مسند الامام احمد (495/3) اور سنن ابی داود (4456) وغیرہ میں بسند صحیح آتی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح