المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ بْنُ حَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا، انہوں نے جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کی گردن مارنے (قتل کرنے) اور اس کا مال چھیننے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے نکاح کر لیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 681]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 4457، سنن النسائي: 3334، اس حدیث کو علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (المحلى: 252/11) نے ”صحیح یقینی الاسناد“ کہا ہے۔ اس کی بہت سی سندیں ہیں، حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْحَدِيثُ لَهُ طُرُقٌ حِسَانٌ يُؤَيِّدُ بَعْضُهَا بَعْضًا (تهذيب السنن: 266/6) یہ حدیث مسند الامام احمد (290/4) سنن نسائی (3333) میں بسند صحیح اور اسی طرح مسند الامام احمد (495/3) اور سنن ابی داود (4456) وغیرہ میں بسند صحیح آتی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
البراء بن عازب الأنصاري ← حارث بن عمرو الأنصاري