🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب
باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: قَدْ كَتَبْتُهُ فِي السِّيَرِ.
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے سال جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ ابو محمد کہتے ہیں: میں نے وہ خطبہ کتاب السیر میں لکھا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 180/2، 191، 212، 216، سنن أبي داود: 4583، السنن الكبرى للبيهقي: 335/6، محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کی متابعت مسند الامام احمد (215/2) وغیرہ میں عبدالرحمن بن حارث نے کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلا أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قُلْتُ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" .
سیدنا ابو جحیفہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کوئی چیز (فرمان وغیرہ) موجود ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا! اس صحیفے اور کتاب الله میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سمجھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت (کے احکام)، قیدیوں کو آزاد کرنا اور یہ کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 794]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6915»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 795
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَوَّلُ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ سَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي، قَالَ: ثني سَعِيدٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَحَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: وَالْبِئْرُ جُبَارٌ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: چوپایوں سے زخم آجانے پر کوئی دیت نہیں، کان میں گر کر مرنے والے کی کوئی دیت نہیں، کنویں میں گر کر مرنے والے کی کوئی دیت نہیں اور رکاز (مدفون خزانہ) میں خمس ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 795]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1499، صحيح مسلم: 1710»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 796
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَحَرَامِ بْنِ سَعْدٍ ،" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَحَلَتْ حَائِطَ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابُوا بِاللَّيْلِ" ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَرُبَّمَا قَالَ: عَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ، وَقَالَ مَرَّةً: مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ.
سیدنا سعید بن مسیب اور حرام بن سعد بیان کرتے ہیں کہ براء کی اونٹنی کسی قوم کے باغ میں گھس گئی اور اسے خراب کر دیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت کھیتی کی حفاظت کرنا مالک کی ذمہ داری ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کریں وہ جانوروں کے مالکوں کے ذمہ ہے۔ ابن مقری نے اسی مفہوم کو چند الفاظ کی تبدیلی سے بھی بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 796]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لإرساله: مسند الإمام أحمد: 295/4، سنن أبي داود: 3570، سنن ابن ماجه: 2332، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (47/2، 48) نے صحيح الإسناد کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، اسے امام مالک رحمہ اللہ (747/2، 748) نے بھی روایت کیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں