🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب في القسامة
قسامہ (قتل کے شک پر حلف لینے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 797
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ" .
ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی طرح برقرار رکھا جیسے دور جاہلیت میں تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 797]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1670»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 798
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلا، وَقَالَ مَرَّةً: مَيِّتًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلَبِ خَيْبَرَ، أَوْ فَقِيرٍ مِنْ فُقُرِهَا، فَجَاءَ عَمَّاهُ وَأَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ قَتِيلا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلَبِ خَيْبَرَ، قَالَ: " فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ" قَالُوا: فَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ؟ قَالَ: فَسَتُبِرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْضَى بِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ وَقَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: فَقَالَ: تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ وَلَمْ يَعْلَمُوا قَاتِلا، فَقَالُوا: كَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّهُمْ قَتَلُوهُ، قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَرَ؟ فَوَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا" .
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل خیبر کے کسی کنویں یا گڑھے میں مقتول یا مردہ پائے گئے، ان کے دو چاچا اور بھائی عبد الرحمن بن سہل جو کہ جنگ بدر میں بھی شریک تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے بھائی عبد الرحمن بات کرنے لگے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ چنانچہ محیصہ نے بات کی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم نے عبد الله کو خیبر کے کنویں میں مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا: آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں کہ اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: جو کام ہم نے دیکھا نہیں اس پر ہم قسم کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر آپ سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم ان کی قسموں کو کس طرح قبول کر لیں جب کہ وہ مشرک لوگ ہیں؟ ابن مقری کہتے ہیں: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا: یہود پچاس قسمیں کھا کر آپ سے بری ہو جائیں گے کہ انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی انہیں قاتل کا علم ہے۔ انہوں نے کہا: ہم مشرک لوگوں کی قسموں کو کیسے قبول کر لیں؟ فرمایا: پھر آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں کہ انہوں (یہودیوں) نے ہی اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم دیکھے بنا کیسے کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کر دی۔ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے ٹانگ ماری تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 3173، صحیح مسلم: 1669»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 799
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: ثني أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُو وَرِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جُهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ، فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ لِيَتَكَلْم وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يُرِيدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا: لا، قَالَ: فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟ قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمَيْنِ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمْ فِي الدَّارِ" ، قَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
ابو لیلی بن عبد الله بن عبد الرحمن اپنی قوم کے بڑوں سے بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل اور محیصہ کسی مصیبت کی وجہ سے خیبر کی طرف روانہ ہوئے، پھر محیصہ کے پاس کوئی آیا تو اس نے بتایا کہ عبد الله بن سہل کو قتل کر کے کسی گڑھے یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس آئے اور کہنے لگے: الله کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: الله کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ واپس اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں یہ واقعہ بیان کیا، پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبد الرحمن بن سہل (رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں) آئے، محیصہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے لگے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ حویصہ نے بات کی، بعد میں محیصہ نے بات کی۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں لکھ بھیجا تو انہوں نے جواباً لکھا: الله کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے فرمایا: آپ قسم کھا کے اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: پھر یہود تمہیں قسمیں دے دیں۔ انہوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سو اونٹ ان کی طرف بھیج دیے حتیٰ کہ گھر میں داخل کر دیے۔ سہل بیان کرتے ہیں: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے ٹانگ ماری تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 7192، صحیح مسلم: 1669»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أتيا خيبر لحاجة، فتفرقا في نخلها، فقتل عبد الله بن سهل، فأتى أخوه النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرِ الْكُبْرَ، يَقُولُ: يَبْدَأُ بِالْكَلامِ الأَكْبَرُ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَصْغَرَ مِنْ صَاحِبَيْهِ، فَتَكَلَّمَا فِي قَتْلِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ وَصَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ، فَقَالُوا: لَمْ نَشْهَدْ فَكَيْفَ نَحْلِفُ؟ فَقَالَ: تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ، فَقَالُوا: قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سَهْلٌ: فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنَ الإِبِلِ رَكَضَتْنِي رَكْضَةً مِنْ مِرْبَدٍ لَهُمْ".
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل اور محیصہ بن مسعود کسی ضرورت کی وجہ سے خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور اس کے نخلستان میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، عبد الله بن سہل کو قتل کر دیا گیا، تو ان کا بھائی عبد الرحمن بن سہل اور چچا کے دو بیٹے حویصہ اور محیصہ بن مسعود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، عبد الرحمن بن سہل بات شروع کرنے لگے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم فرما رہے تھے: بڑا بات شروع کرے، عبد الرحمن سب سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ساتھی کے قتل کے متعلق بات کی۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں اور اپنے ساتھی یا مقتول کے (خون کے) وارث بن جائیں۔ انہوں نے کہا: جب ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے تو ہم کیسے قسمیں کھائیں؟ فرمایا: پھر یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: وہ تو کافر لوگ ہیں، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیت ادا کر دی۔ سہل کہتے ہیں: ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا تو اس نے مجھے باڑے میں ٹانگ دے ماری۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6142-6143، صحیح مسلم: 1669»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں