المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
56. باب ما جاء في الجاسوس يقدر عليه فيسلم
وہ جاسوس جو پکڑا جائے اور پھر اسلام قبول کر لے
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلالُ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنِ الْفُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ، وَكَانَ عَيْنًا لأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَمَرَّ عَلَى حَلَقَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمُ الْفُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ" .
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ابو سفیان کے جاسوس اور حلیف تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، وہ انصاریوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: میں مسلمان ہو گیا ہوں، ان میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو کہتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں، فرات بن حیان بھی انہی میں سے ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 4/336، سنن أبي داود: 2652، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (4/366) نے امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ابو اسحاق سبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف