المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
77. باب ما جاء في تعجيل قسم الغنائم بقرب العدو
دشمن کے قریب ہی غنائم کی تقسیم میں جلدی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1083
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْسِمُ الْغَنَائِمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: اعْدِلْ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدَلْ؟ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: دَعْهُ، فَإِنَّ هَذَا مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، أَوْ فِي أَصْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جعرانہ میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: انصاف کیجیے، آپ نے انصاف نہیں کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر اور کون کرے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: مجھے اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دیں، یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوگا جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں جائے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے گزر جاتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1063»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح