المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
81. باب ما جاء في أخذ الفداء من الأسارى
قیدیوں سے فدیہ لینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثني يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلادَةٍ لَهَا كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى بِهَا، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً، وَقَالَ:" إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا، وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَطْلَقُوهُ وَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا .
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب بنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بھی (اپنے شوہر) ابو العاص کو چھڑانے کے لیے اپنا وہ ہار بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی الله عنها نے انہیں ابو العاص سے شادی کے وقت دیا تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب وہ ہار دیکھا تو آپ پر اس کی وجہ سے شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس (زینب) کی خاطر اس کے قیدی کو رہا کر دیں اور اس کا مال واپس لوٹا دیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی: الله کے رسول! ٹھیک ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے (ابو العاص کو) چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی الله عنها کا مال بھی واپس کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: السيرة النبوية لابن هشام: 2/307، 308، مسند الإمام أحمد: 6/276، سنن أبي داود: 2192، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (3/236، 4/44، 45) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بإسناد حسن لا جرم (البدر المنير: 9/117)۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن