المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
80. باب الدليل على أن الغنيمة لمن شهد الوقيعة
اس بات کی دلیل کہ غنیمت صرف اسی کی ہے جو لڑائی میں حاضر ہوا
حدیث نمبر: 1088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَأَنَّ خُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: لا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ يَا أَبَانُ، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ أَعْطَى مِنْ خَيْبَرَ جَعْفَرَ وَأَصْحَابَهُ" .
سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کر کے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا، ابان اور اس کے ساتھی فتح خیبر کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کے رسول! ہمارا حصہ بھی تقسیم کر دیں، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کہتے ہیں: میں نے کہا: الله کے رسول! ان کا حصہ نہ نکالیں، سیدنا ابان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے وبر! (بلی سے چھوٹا ایک جانور ہے) تم یہ بات کہتے ہو، حالانکہ تم ابھی ضان (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر کر ہمارے پاس آئے ہو، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابان بیٹھ جائیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ نہیں نکالا۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو خیبر (کی غنیمت) سے حصہ دیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن سعيد بن منصور: 2793، سنن أبي داود: 2723، المعجم الأوسط للطبراني: 3242، السنن الكبرى للبيهقي: 6/334، اسماعیل بن عیاش نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے، امام بخاری رحمہ اللہ (4238) نے اسے صیغہ تمریض کے ساتھ معلق ذکر کیا ہے، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (نخب الافکار: 12/333) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقِيرَاطِيُّ ، قَالَ: أنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَوَافَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا، أَوْ قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا، وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ، إِلا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، قَسَمَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہماری ملاقات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی، آپ نے ہمارا حصہ بھی نکالا۔ یا یوں بیان کیا کہ آپ نے اس میں سے ہمیں بھی دیا، جو لوگ فتح خیبر میں شریک نہیں تھے آپ نے ان میں سے کسی کو بھی حصہ نہیں دیا تھا، صرف شرکائے غزوہ اور ہماری کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو (جو جنگ میں شریک نہیں تھے) حصہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4230، صحیح مسلم: 2502»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح