المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
84. باب عتق من أسلم من عبيد المشركين
مشرکین کے ان غلاموں کی آزادی جو اسلام لے آئیں
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ الصُّلْحِ، فَأَسْلَمُوا، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ، وَلَكِنَّهُمْ إِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرَّقِّ، فَقَالَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا أَرَاكُمْ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ تَنْتَهُونَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا الدِّينِ، فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ، وَقَالَ: هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ" .
سیدنا علی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے دن صلح ہونے سے پہلے مکہ والوں کے کچھ غلام رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس بھاگ آئے اور مسلمان ہو گئے۔ ان کے مالکوں نے مکہ سے آپ کو یہ پیغام بھیجا: الله کی قسم! محمد! یہ آپ کے پاس آپ کے دین سے لگاؤ کی بنیاد پر نہیں آئے بلکہ یہ تو صرف غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کہنے لگے: الله کے رسول! وہ سچ کہہ رہے ہیں، چنانچہ انہیں واپس بھیج دیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا: قریش کی جماعت! میرا خیال ہے آپ اس وقت تک باز نہیں آئیں گے جب تک الله تعالیٰ آپ پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر دے جو اس دین پر آپ کی گردنیں اڑا دے۔ آپ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: انہیں الله تعالیٰ نے آزاد کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2700، السنن الكبرى للبيهقي: 9/229، امام حاکم رحمہ اللہ (2/125) نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ محمد بن اسحاق (جو جمہور کے نزدیک حسن الحدیث ہیں) مدلس ہیں۔ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (3716) نے شریک عن منصور کی سند سے بیان کیا ہے، نیز اسے حسن صحیح غریب قرار دیا ہے، شریک بن عبداللہ القاضی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف