🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. باب ذكر ما يوجف عليه والخمس والصفايا
وہ مال جس پر چڑھائی کی گئی، خمس اور امام کے منتخب حصے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
سیدنا عمر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بنو نضیر کے مالوں میں سے سال بھر اپنے گھر والوں پر خرچ کیا کرتے تھے، یہ ان مالوں میں سے تھا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم کو بطور فے عطا کیا تھا، مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ، پھر جو باقی بچ جاتا آپ اسے الله کی راہ میں گھوڑوں اور اسلحہ کی تیاری میں خرچ کر دیتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2904، صحیح مسلم: 1757»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، وَبِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالُوا: ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ، وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيبرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ" ، يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا الْمَأْكَلَ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی الله عنها نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وہ میراث طلب کرنے کے لیے کسی کو سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ کے پاس بھیجا جو الله تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطور فے دی تھی۔ اس وقت فاطمہ رضی الله عنها رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس صدقہ کا مطالبہ کر رہی تھیں جو کہ مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس سے باقی ماندہ سے متعلق تھا۔ سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی الله عنہ نے فرمایا: رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ہماری میراث نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، آل محمد اس الله کے مال میں سے کھانے کے بقدر لے سکتے ہیں۔ انہیں اس سے زائد لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ الله کی قسم! میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صدقات میں کچھ بھی تبدیلی نہیں کروں گا اور انہیں اسی حالت میں رہنے دوں گا جس حالت میں وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دور میں تھے اور اس کے ساتھ میں ویسے ہی معاملہ کروں گا جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3711، صحیح مسلم: 1759»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1099
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَةِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيُّ وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو الْعَلاءِ: فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ فَإِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أَقَيْشٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّفِيَّ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَأَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَصَوْمُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ" ، قَالَ: قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَتَرُونِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ، فَانْصَاعَ مُدْبِرًا الْحَدِيثُ لِلأَحْمَسِيِّ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ.
یزید بن عبد الله بن الشخیر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بصرہ کے (ایک محلے) مربد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا جس کے پاس چمڑا یا چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ وہ کہنے لگا: یہ تحریر مجھے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے لکھ کر دی ہے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے اسے پکڑا اور لوگوں کے سامنے پڑھنے لگا، اس میں لکھا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم، یہ تحریر محمد رسول الله کی طرف سے بنو زہیر بن أقیش کے نام ہے، اگر آپ نے نماز قائم کی، زکوٰة ادا کی، غنیمت میں سے خمس ادا کیا، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا حصہ اور صفی کا حصہ ادا کیا تو آپ الله اور اس کے رسول کی امان میں آجائیں گے۔ ابو العلاء کہتے ہیں: ہم نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کچھ فرماتے سنا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ماہ رمضان اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے سے دل کا کینہ ختم ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا: آپ نے خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو وہ کہنے لگا: کیا خیال ہے کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ بول رہا ہوں؟ کہتے ہیں: پھر اس نے تحریر لی اور پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ یہ حدیث احمسی کی ہے لیکن الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/263، سنن أبي داود: 2999، سنن النسائي: 2415، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6557) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں