المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
89. باب إجلاء اليهود
یہودیوں کو جلاوطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ يَهُودَ النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ" .
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نضیر اور قریظہ کے یہودیوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے لڑائی کی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، مگر قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا حتیٰ کہ بعد میں قریظہ نے بھی آپ سے جنگ کی تو آپ نے ان کے آدمی مار دیے، عورتیں، بچے اور مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیے، بجز چند (افراد) کے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے تھے، آپ نے انہیں امان دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، عبد الله بن سلام کی قوم بنو قینقاع کو بھی اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی، تا آنکہ مدینہ کے ہر یہودی کو جلا وطن کر دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2338، صحیح مسلم: 1551»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح