صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ:
باب: جب امام کے آنے میں دیر ہو اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 949
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ "،
امام مالک نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ اابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ انہوں (سہل بن سعد) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے، آپ بچ کر گزرتے ہوئے (پہلی) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بات کا حکم دیا، پھر اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (کھڑے ہو کر) جماعت کرائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا: ”کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے (جس پر توجہ دلانا ضروری ہو) تو سبحان اللہ کہو، جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، ہاتھ پر ہاتھ مارنا، صرف عورتوں کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 949]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا، اس پر مؤذن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ جماعت کروائیں گے تو میں تکبیر کہوں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے، اس پر لوگوں نے ایک ہاتھ دوسرے پر مارنا شروع کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے مسلسل تالی بجائی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ سے اپنی جگہ کھڑا رہنے کے لیے کہا، اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امامت کا اعزاز بخشا، پھر پیچھے ہٹ کر صف میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! میرے حکم دینے کے بعد اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (موجودگی میں) جماعت کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عجیب بات ہے! میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے، (یاد رکھو) جب نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہے تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، اور ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو عورتوں کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 950
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ، حَتّى قَامَ فِي الصَّفِّ،
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری دونوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 950]
عبدالعزیز رحمہ اللہ اور یعقوب رحمہ اللہ دونوں ابوحازم رحمہ اللہ کی، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور ان کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور واپس الٹے پاؤں لوٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 950]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: رَجَعَ الْقَهْقَرَى.
عبید اللہ نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے ... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند (حدیث بیان کی) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 951]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے جیسا کہ مذکورہ بالا راویوں نے بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیر کر پہلی صف میں شریک ہو گئے، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 952
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جميعا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ، حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَحْسَنْتُمْ، أَوَ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ، أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ".
عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ نے خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے۔ مغیرہ نے کہا: صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازو جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح (کر کے) وضو (مکمل) کیا، پھر آپ آگے بڑھے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر چکے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی، چنانچہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ یا فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 952]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں صبح کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانی کا برتن اٹھا کر چلا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس لوٹے تو میں برتن (لوٹا) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، اس کے بعد اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے، آستینیں تنگ نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ اپنے بازو جبے کے نیچے سے نکال لیے، اور ان کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر موزوں کے اوپر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، (ہم نے پہنچ کر) لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر چکے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رکعت ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی، تو جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے، مسلمان اس سے گھبرا گئے (پریشان ہو گئے) اور انہوں نے کثرت سے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے وقت پر نماز پڑھنے کو قابل رشک قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ.
اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے۔ (اس میں یہ بھی ہے کہ) مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (آگے) رہنے دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 953]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹانا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو“، (نماز پڑھانے دو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة