صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب تقديم الجماعة من يصلي بهم إذا تاخر الإمام ولم يخافوا مفسدة بالتقديم:
باب: جب امام کے آنے میں دیر ہو اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: رَجَعَ الْقَهْقَرَى.
عبید اللہ نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے ... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند (حدیث بیان کی) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 951]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے جب کہ مذکورہ بالا راویوں نے بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیر کر پہلی صف میں شریک ہو گئے، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي