مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
30. (يؤذن) بليل (أيعيد) الأذان أم لا؟
اگر موذن نے فجر کی اذان طلوع صبح سے پہلے دے دی تو اعادہ اذان ہوگا یا نہیں؟
ترقیم عوامۃ: 2321 ترقیم الشثری: -- 2327
٢٣٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو خالد عن اشعث عن الحسن قال: اذن بلال بليل فامره النبي ﷺ ان ينادي: (نام العبد) (١) ، فرجع فنادى: (نام العبد) (٢) وهو يقول: ليت بلالا لم تده امه، وابتل من نضح دم جبينه، قال: وبلغنا انه امره ان يعيد الاذان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ألا إن العبد نام).
(٢) في [هـ]: (العبد نام).
(٣) مرسل ضعيف؛ لحال أشعث، وأخرجه مرسلًا عبد الرزاق (١٨٨٨)، والدارقطني ١/ ٢٤٤، والبيهقي ١/ ٣٨٤، وأخرج نحوه متصلًا عن ابن عمر: أبو داود (٥٣٢)، والدارقطني ١/ ٢٤٤، والطحاوي ١/ ١٣٩ ومن حديث أنس أخرجه البزار (٣٦٤/ كشف)، والدارقطني ١/ ٢٤٥.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک مرتبہ رات کو اذان دے دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جا کر اعلان کریں کہ بندہ سو گیا! وہ واپس گئے اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ بندہ سو گیا۔ ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے: کاش بلال کو اس کی ماں نے جنا ہی نہ ہوتا اور کاش خون سے اس کی پیشانی تر ہوچکی ہوتی۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان کے اعادے کا حکم دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأذان والإقامة/حدیث: 2327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2327، ترقيم محمد عوامة 2321)
ترقیم عوامۃ: 2322 ترقیم الشثری: -- 2328
٢٣٢٨ - حدثنا وكيع عن ابن ابي رواد عن نافع: ان مؤذنا لعمر يقال له: (مسروح) (١) اذن قبل الفجر فامره عمر ان يعيد (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ك]: (مشروح).
(٢) في [أ] زيادة: (الأذان).
(٣) منقطع؛ نافع لم يرو عن عمر.
حدثنا حدثنا وكيع، عن ابن ابي رواد، عن نافع، ان مؤذنا لعمر يقال له: مسروح اذن قبل الفجر فامره عمر ان يعيد"
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا ایک مؤذن تھا جس کا نام مسروح تھا۔ انہوں نے فجر سے پہلے اذان دے دی تو حضرت عمر نے انہیں دوبارہ اذان دینے کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأذان والإقامة/حدیث: 2328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2328، ترقيم محمد عوامة 2322)
ترقیم عوامۃ: 2323 ترقیم الشثری: -- 2329
٢٣٢٩ - حدثنا حسين بن علي (١) عن ابي موسى (٢) قال: كان الحسن إذا ذكره (عنده) (٣) هؤلاء الذين يؤذنون بليل قال: (يقول) (٤) : علوج فراغ ⦗٤٧٧⦘ (لا يصلون إلا بإقامة) (٥) لو ادركهم عمر بن الخطاب (لاوجعهم) (٦) (ضربا) (٧) او لاوجع رؤوسهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في حاشية [ب]: (الجعفي).
(٢) في حاشية [ب]: (إسرائيل بن موسى نزيل الهند).
(٣) في [هـ]: (عند).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [د]: (لا يصلون الإقامة)، وفي [هـ]: (بالإقامة).
(٦) في [ك]: (وجعهم).
(٧) سقط من: [أ].
حدثنا حسين بن علي، عن ابي موسى، قال: كان الحسن إذا ذكر عنده هؤلاء الذين يؤذنون بليل، فقال:" يقول: علوج فراغ لا يصلون إلا بإقامة لو ادركهم عمر بن الخطاب لاوجعهم ضربا او لاوجع رءوسهم"
حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت حسن کے سامنے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو رات میں فجر کی اذان دے دیتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہ عجم کے کافر اور فارغ لوگ ہیں وہ صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ اگر حضرت عمر کو ان کے بارے میں علم ہوجاتا تو انہیں مارتے یا ان کے سر پر مارتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأذان والإقامة/حدیث: 2329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2329، ترقيم محمد عوامة 2323)