صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
43. باب فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ:
باب: سجدوں کی فضیلت اور اس کی ترغیب۔
ترقیم عبدالباقی: 488 ترقیم شاملہ: -- 1093
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، قَالَ: " لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوَ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَت، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً "، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ، مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے، یا انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی (اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا، انہوں نے خاموشی اختیار کی، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا: ”تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا۔“ معدان نے کہا: پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے (یہی) سوال کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1093]
حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: ”مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے“، یا میں نے پوچھا: ”جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو“۔ انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی (اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا) پھر میں نے دوبارہ یہی سوال کیا، انہوں نے پھر خاموشی اختیار کر لی، پھر میں نے ان سے سہ بارہ (تیسری دفعہ) یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تم اللہ کے حضور میں سجدے زیادہ کیا کرو، کیونکہ تم اللہ کے لیے جو سجدہ بھی کرو گے اس کے نتیجے میں اللہ تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا، اور تمہارا کوئی نہ کوئی گناہ اس کی وجہ سے ضرور معاف ہو گا۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 489 ترقیم شاملہ: -- 1094
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: " كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ".
حضرت ربیعہ بن کعب (بن مالک) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (خدمت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (صفہ میں آپ کے قریب) رات گزارا کرتا تھا، (جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ (ایک مرتبہ) آپ نے مجھے فرمایا: ”(کچھ) مانگو۔“ تو میں نے عرض کی: میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا: ”یا اس کے سوا کچھ اور؟“ میں نے عرض کی: بس یہی۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1094]
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھے) تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مانگو!“ میں نے عرض کیا: ”میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے سوا کچھ اور بھی؟“ میں نے عرض کیا: ”بس میں تو یہی مانگتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تم اپنے اس معاملے میں سجدوں کی کثرت کے ذریعے میری مدد کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 489
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة