🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ:
باب: بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ ہونا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 525 ترقیم شاملہ: -- 1176
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ سورة البقرة آية 144، فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَار وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَحَدَّثَهُمْ، فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ.
ابواحوص نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی آیت: «وَجِّهْ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن کر) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ (مسجد بنی حارثہ میں، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا) نماز پڑھ رہے تھے، اس نے انہیں یہ (حکم) بتایا تو انہوں نے (اثنائے نماز ہی میں) اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1176]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ یہاں تک کہ سورة بقرہ کی یہ آیت اتری اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رخ نماز میں کعبہ کی طرف کرو۔ (بقرہ آیت: ۱۴۴) یہ آیت اس وقت اتری جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن کر) چلا اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا وہ نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 525 ترقیم شاملہ: -- 1177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ ".
سفیان (ثوری) سے روایت ہے، کہا: مجھے ابواسحاق نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر ہمارا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1177]
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ نماز بیت المقدس کی طرف رخ کرکے پڑھی، پھر ہمیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 526 ترقیم شاملہ: -- 1178
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبَلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ ".
عبدالعزیز بن مسلم اور مالک بن انس نے اپنی اپنی سندوں سے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثناء میں ان کے پاس آنے والا ایک شخص (عباد بن بشر) آیا اور اس نے کہا: بلاشبہ رات (گزشتہ دن کے آخری حصے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترا۔ اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو۔ ان کے رخ شام کی طرف تھے تو (اسی وقت) وہ سب کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 526 ترقیم شاملہ: -- 1179
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَوَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
موسیٰ بن عقبہ نے نافع اور عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا (بقیہ حدیث امام مالک کی سابقہ روایت کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1179]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اسی اثنا میں کہ لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا۔آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 527 ترقیم شاملہ: -- 1180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 "، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً، فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، پھر یہ آیت: «وَنَرَى وَجْهَكَ يَتَوَجَّهُ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ) گزرا، (اس وقت) لوگ (مسجد قباء میں) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے، اس نے آواز دی: سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے، اسی میں (رکوع ہی کے عالم میں) قبلے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1180]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر یہ آیت اتری: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں تو ہم ضرورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں (یا وہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تولیت میں دے دیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے۔ (بقرة آیت:۱۴۴) بنو سلمہ کا ایک آدمی گزرا اور لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے تو اس نے آواز دی خبردار! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے تو وہ جس حالت میں تھے، اسی حالت میں قبلہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں