🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ.
باب: قبروں پر مسجد بنانے اور ان میں مورتیں رکھنے کی ممانعت، قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1181
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ، ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ، فِيهَا تَصَاوِيرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُولَئِكِ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے حدیث سنائی، کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس گرجے کا تذکرہ کیا، جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں آویزاں تھیں، آپ نے فرمایا: بلاشبہ وہ لوگ (قدیم سے ایسے ہی تھے کہ) جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1181]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس گرجے کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں آویزاں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ، جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ عزوجل کے نزدیک قیامت کے روز بدترین لوگ ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، كَنِيسَةً، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کی کہ آپ کے مرض الموت میں لوگوں نے آپ کے سامنے آپس میں بات چیت کی تو ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا (پھر اسی کے مانند بیان کیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1182]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں باہمی گفتگو کی تو ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا تذکرہ کیا، آگے اوپر والی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1183
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً، رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا: مَارِيَةُ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
(یحییٰ اور وکیع کے بجائے) ابومعاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنیسے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا، اسے (کنیسہ) ماریہ کہا جاتا تھا (آگے ان پہلے راویوں کی حدیث کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اس گرجا کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا جس کو «مَارِيَة» ماریہ کہا جاتا تھا، پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 529 ترقیم شاملہ: -- 1184
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ "، قَالَتْ: فَلَوْلَا ذَاكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: وَلَوْلَا ذَاكَ، لَمْ يَذْكُرْ: قَالَتْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا: ہم سے ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شیبان نے ہلال بن ابی حمید سے حدیث سنائی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپ اٹھ نہ سکے (جاں بر نہ ہوئے) فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو ظاہر رکھا جاتا لیکن یہ ڈر تھا کہ اسے مسجد بنا لیا جائے گا۔ (اس لیے اللہ کی مشیت سے وہ حجرہ مبارکہ میں بنائی گئی۔) ابن ابی شیبہ کی روایت میں فلو لا کی جگہ ولو لا (اور اگر) کے الفاظ ہیں اور اس سے پہلے قالت (انہوں نے کہا) کا لفظ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1184]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ نہیں سکے، فرمایا: «لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت برسائے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو ظاہر کیا جاتا، مگر اس کے مسجد بنانے کا ڈر پیدا ہوا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مسجد بنانے کا ڈر لگا۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں «فَلَوْلَا» کی جگہ «وَلَوْلَا» ہے اور «قَالَتْ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1184]
ترقیم فوادعبدالباقی: 529
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 530 ترقیم شاملہ: -- 1185
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ".
سعید بن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود کو ہلاک کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1185]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت بھیجے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1185]
ترقیم فوادعبدالباقی: 530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 530 ترقیم شاملہ: -- 1186
وحَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ".
(سعید کے بجائے) یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1186]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت بھیجے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 531 ترقیم شاملہ: -- 1187
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا، قَالَ وَهَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ، يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ، كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: وَهُوَ كَذَلِكَ، " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، يُحَذِّرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا ".
عبید اللہ بن عبداللہ (بن مسعود) نے خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (وفات کے لمحے) طاری ہوئے تو آپ اپنی ایک چادر اپنے چہرے پر ڈالتے تھے اور جب جی گھبراتا تو اسے چہرے سے ہٹا لیتے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ آپ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو! انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ آپ ان جیسا عمل کرنے سے ڈرا رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1187]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «مَلَكُ الْمَوْتِ» موت کا فرشتہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منقش چادر اپنے چہرے پر ڈالنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹن محسوس فرماتے تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں فرمایا: یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس حرکت و کرتوت سے ڈراتے تھے (کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس فعل میں مبتلا نہ ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 532 ترقیم شاملہ: -- 1188
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ، أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ ".
حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا: میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے، جس طرح اس نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیل بنایا تھا، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا، میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1188]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا کہ: میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے، جیسا کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ہے، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء علیہم السلام اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں یا سجدہ گاہ بنا لیے کرتے تھے، خبردار! تم قبروں کو مسجد نہ بنانا، بے شک میں تم کو اس سے روکتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1188]
ترقیم فوادعبدالباقی: 532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں