🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

313. الرجل يحسن صلاته حيث يراه الناس
اگر کوئی آدمی لوگوں کو دکھا کر اچھی نماز پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 8489 ترقیم الشثری: -- 8627
٨٦٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: ثنا ابو خالد الاحمر عن (سعد) (١) بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد قال: قال رسول الله ﷺ:" (إياكم) (٢) و (شرك) (٣) السرائر"، قالوا وما شرك السرائر؟ قال:"ان يقوم احدكم يزين (صلاته) (٤) جاهدا لينظر الناس إليه فذلك شرك السرائر" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (سعيد).
(٢) تكررت في: [ز].
(٣) في [أ]: (وشراك).
(٤) كلمة غير واضحة في: [ز].
(٥) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٦٣٠)، وابن خزيمة (٩٣٧)، والطبراني (٤٣٠١)، والبيهقي ٢/ ٢٩٠، والبغوي (٤١٣٥).

حدثنا ابو بكر، قال: ثنا ابو خالد الاحمر ، عن سعد بن إسحاق ، عن عاصم بن عمر بن قتادة ، عن محمود بن لبيد ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إياكم وشرك السرائر"، قالوا: وما شرك السرائر؟، قال:" ان يقوم احدكم يزين صلاته جاهدا لينظر الناس إليه، فذلك شرك السرائر"
حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چھپے ہوئے شرک سے بچو، چھپے ہوئے شرک سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ چھپا ہوا شرک کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی نماز کو اس وجہ سے مزین کرے تاکہ لوگ اسے دیکھیں تو یہ چھپا ہوا شرک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8627، ترقيم محمد عوامة 8489)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 8490 ترقیم الشثری: -- 8628
٨٦٢٨ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن ابي الاحوص عن عبد الله قال: من صلى صلاة والناس يرونه فليصل إذا (خلا) (١) مثلها وإلا فإنما هي استهانة يستهين بها ربه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أخلا).
(٢) صحيح.

حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله ، قال: " من صلى صلاة والناس يرونه ؛ فليصل إذا خلا مثلها، وإلا فإنما هي استهانة يستهين بها ربه"
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لوگوں کے دیکھنے کی صورت میں نماز پڑھی تو اسے چاہئے کہ وہ اکیلے میں بھی ایسی نماز پڑھے، وگرنہ اس نے اپنے رب کی توہین کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8628، ترقيم محمد عوامة 8490)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 8491 ترقیم الشثری: -- 8629
٨٦٢٩ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن رجل عن حذيفة مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول، لإبهام الراوي عن حذيفة.
حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن رجل، عن حذيفة مثله
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی یونہی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8629، ترقيم محمد عوامة 8491)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں