مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
366. في الصلاة عند القتل
قتل ہونے سے پہلے نماز کا بیان
ترقیم عوامۃ: 8894 ترقیم الشثری: -- 9042
٩٠٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا بن ابي ذئب عن مسلم بن جندب عن الحارث بن برصاء قال: اتي بخبيب فبيع بمكة فاخرجوه من الحرم ليقتلوه فقال: دعوني اصلي ركعتين، فتركوه فصلى ركعتين ثم قال: لولا ان تظنوا بي جزعا لزدت (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الفاكهي في أخبار مكة (١٧٦٥)، وهذا المعنى من حديث أبي هريرة، أخرجه البخاري (٣٠٤٥)، وأحمد (٨٠٩٦).
حدثنا يزيد بن هارون، قال: حدثنا ابن ابي ذئب، عن مسلم بن جندب، عن الحارث بن برصاء، قال: " اتي بخبيب، فبيع بمكة، فاخرجوه من الحرم ليقتلوه"، فقال: دعوني اصلي ركعتين، فتركوه، فصلى ركعتين، ثم قال: لولا ان تظنوا بي جزعا ؛ لزدت"
حضرت حارث بن برصاء کہتے ہیں کہ حضرت خبیب کو لایا گیا اور مکہ میں بیچ دیا گیا۔ مشرکین نے انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے نکالا تو انہوں نے کہا کہ مجھے دو رکعتیں پڑھنے دو۔ مشرکین نے انہیں اس کی اجازت دے دی تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر فرمایا کہ اگر مجھے تمہارے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم کہو گے کہ میں نے موت کے خوف سے لمبی نماز پڑھی ہے تو میں اور لمبی نماز پڑھتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 9042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9042، ترقيم محمد عوامة 8894)
ترقیم عوامۃ: 8895 ترقیم الشثری: -- 9043
٩٠٤٣ - حدثنا ازهر عن ابن عون عن محمد قال: لما انطلق بحجر (إلى) (١) معاوية قال: السلام عليك يا امير المؤمنين (قال) (٢) : وامير المؤمنين انا؟ قال: نعم، قال: لاقتلنك. قال: ثم امر به ليقتل، فقال: دعوني اصلي ركعتين، فصلى ركعتين تجوز فيهما فقال: لا ترون اني خففتهما جزعا ولكني (كرهت) (٣) ان (اطول) (٤) عليكم ثم قتل (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أبي).
(٢) (قال) زيادة في: [أ، ب، ز، ك].
(٣) في [ز]: (أكرهت).
(٤) في: [ز]: (أطوله).
(٥) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٥٣٢، والطبراني (٣٥٦٩)، وابن حبان في الثقات (٤/ ١٧٦)، وابن عسكر في تاريخ دمشق ١٢/ ٢٢٧، وابن سعد ٦/ ٢١٩، وأبو العرب في المحن ١/ ١٤٢، والطبري في التاريخ ٣/ ٢٢٠، ويعقوب في المعرفة (٣/ ٣٢٩)، وابن عبد البر في الاستذكار ٥/ ١٢١، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٥٦.
حدثنا ازهر، عن ابن عون، عن محمد، قال: لما انطلق بحجر إلى معاوية، قال: السلام عليك يا امير المؤمنين، قال:" وامير المؤمنين انا؟" قال: نعم، قال:" لاقتلنك"، قال: ثم امر به ليقتل، فقال: دعوني اصلي ركعتين، فصلى ركعتين تجوز فيهما، فقال لا ترون اني خففتهما جزعا، ولكني كرهت ان اطول عليكم" ثم قتل
حضرت محمد کہتے ہیں کہ جب حجر بن عدی کو حضرت معاویہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ پر سلامتی ہو! حضرت معاویہ نے فرمایا کہ کیا میں امیر المؤمنین ہوں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں پھر بھی تجھے قتل کروں گا۔ پھر آپ نے حجر بن عدی کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ حجر نے کہا کہ مجھے دو رکعت پڑھنے کی اجازت دیجئے۔ اجازت ملنے پر انہوں نے دو مختصر رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کسی خوف کی وجہ سے مختصر نماز پڑھی بلکہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں تمہارے سامنے لمبی نماز پڑھوں۔ پھر انہیں قتل کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 9043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9043، ترقيم محمد عوامة 8895)