مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
9. في زكاة الإبل ما فيها
’’اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان‘‘
ترقیم عوامۃ: 9981 ترقیم الشثری: -- 10151
١٠١٥١ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر ان رسول الله ﷺ كتب كتاب الصدقة فقرنه بسيفه، او قال: ⦗١٦٧⦘ بوصيته ولم يخرجه حتى قبض (فلما قبض) (٢) عمل به ابو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر، فكان فيه: (في) (٣) خمس [من الإبل شاة وفي عشرة شاتان، وفي خمسة عشر ثلاث شياه، وفي عشرين اربع شياه، وفي (خمس) (٤) ] (٥) وعشرين بنت مخاض إلى خمس وثلاثين، فإذا زادت ففيها بنت لبون إلى خمس واربعين، [ (فإذا) (٦) زادت فحقة إلى ستين، فإذا زادت فجذعة إلى] (٧) خمس (وسبعين) (٨) (فإذا) (٩) زادت (فابنتا) (١٠) لبون إلى تسعين، فإن زادت فحقتان إلى عشرين ومائة فإن زادت على عشرين ومائة، ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون، لا (يجمع) (١١) بين (مفترق) (١٢) (ولا يفرق) (١٣) بين مجتمع، وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بالسوية (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ز، ك]: (بن) وفي [أ، ب، ف، ن]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ز، ك] سقطت: (فلما قبض).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [هـ]: (خمسة).
(٥) سقط من: [ص].
(٦) في [ص] زيادة: (أو).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٨) في [ح]: (وستين).
(٩) في [ص]: (فإن).
(١٠) في [أ، ب]: (فابنة).
(١١) في [ص]: (تجمع).
(١٢) في [أ، ب]: (متفرق).
(١٣) في [ص]: سقطت.
(١٤) ضعيف؛ رواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، وابن ماجه (١٧٩٨)، والحاكم ١/ ٣٩٢، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والدارمي ١/ ٣٨٢، والبيهقي ٤/ ٨٨، والطحاوي في شرح المشكل (٥٨٢٠)، وابن عدي ٣/ ١١٣٦، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥).
حدثنا عباد بن العوام ، عن سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن سالم ، عن ابن عمر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب كتاب الصدقة فقرنه بسيفه، او قال: بوصيته ولم يخرجه حتى قبض، فلما قبض عمل به ابو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر فكان فيه: " في خمس من الإبل شاة، وفي عشرة شاتان، وفي خمسة عشر ثلاث شياه، وفي عشرين اربع شياه، وفي خمسة وعشرين بنت مخاض إلى خمس وثلاثين، فإذا زادت ففيها بنت لبون إلى خمس واربعين، فإذا زادت فحقة إلى ستين، فإذا زادت فجذعة إلى خمس وسبعين، فإذا زادت فابنتا لبون إلى تسعين، فإن زادت فحقتان إلى عشرين ومائة، فإن زادت على عشرين ومائة ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون، لا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع، وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بالسوية"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکام لکھوائے اور ان کو تلوار کے ساتھ ملا کررکھایا (راوی کو شک ہے) وصیت کیساتھ، اور اسکو نکالا نہیں یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض کرلی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے عمل کیا یہاں تک کہ صدیق اکبر بھی دنیا سے چلے گئے پھر اس پر حضرت عمر نے عمل کیا، اس میں لکھا ہوا تھا کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے، دس پر دو بکریاں، پندرہ پہ تین بکریاں، بیس پہ چار بکریاں، پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض (ایک سال کا اونٹ جس کا دوسرا سال چل رہا ہو) ہے پینتیس تک، اور جب پینتیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ایک بنت لبون (دو سال کا اونٹ جس کا تیسرا چل رہا ہو) ہے پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے زائد ہوجائیں تو ان پر ساٹھ تک ایک حقہ ہے (تین سال کا اونٹ جس کا چوتھا چل رہا ہو) اور جب ساٹھ سے زائد ہوجائیں تو ان پر جذعہ (چار سال کا اونٹ جس کا پانچواں سال چل رہا ہو) ہے پچھتر تک، پھر جب پچھتر سے زائد ہوجائیں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں۔ اور پھر نوے سے زائد ہوجائیں تو ایک سو بیس تک اس پر دو حقے ہیں، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون ہے، متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا (اگر مویشی متفرق اور متعدد جگہوں میں ہیں تو انہیں زکوٰۃ لیتے وقت یا دیتے وقت ایک جگہ جمع نہیں کیا جائے گا اور ایک جگہ ہیں تو انہیں متعدد جگہوں اور چراگاہوں مں ع تقسیم نہیں کیا جائیگا۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے یہاں مکان اور چراگاہ کے مختلف اور متعدد ہونے سے زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان کے ہاں صرف ملک کا اختلاف اور تعدد زکوٰۃ پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے اس حدیث کی تفریق و اجتماع سے صرف ملکیت کی حد تک تعدد اور اجتماع مراد ہے)، اور دو شریک اپنا حساب خود آپس میں برابر کرلیں گے (یعنی دو آدمی کسی کام تجارت وغیرہ میں شریک ہیں تو جب زکوٰۃ وصول کرنے والا افسر آئے گا تو وہ اس کا انتظار نہیں کرے گا کہ یہ شرکاء اپنے مال کو تقسیم کرلیں اور پھر ان کے سرمایہ سے الگ الگ زکوٰۃ لی جائے بلکہ پورے سرمایہ میں جو زکوٰۃ واجب ہوگی افسر اس واجب زکوٰۃ کو لے لے گا، اب یہ شرکاء کا کام ہے کہ حساب کے مطابق واجب شدہ زکوٰۃ کے حصے تقسیم کریں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10151]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10151، ترقيم محمد عوامة 9981)
ترقیم عوامۃ: 9982 ترقیم الشثری: -- 10152
١٠١٥٢ - حدثنا عبد السلام عن خصيف عن ابي عبيدة وزياد بن ابي مريم عن عبد الله (قال) (١) : في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قالا).
(٢) ضعيف منقطع، خصيف ضعيف، وزياد لم يسمع من عبد اللَّه.
حدثنا حدثنا عبد السلام، عن خصيف، عن ابي عبيدة، وزياد بن ابي مريم، عن عبد الله , قالا: " في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض"
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں پر بنت مخاض واجب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10152، ترقيم محمد عوامة 9982)
ترقیم عوامۃ: 9983 ترقیم الشثری: -- 10153
١٠١٥٣ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: في خمس من الإبل شاة إلى [تسع (فإن زادت واحدة ففيها شاتان إلى اربع عشرة، فإن زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى تسع) (١) عشرة فإن زادت واحدة ففيها اربع إلى اربع] (٢) وعشرين، فإن زادت واحدة ففيها خمس شياه، فإن زادت واحدة ففيها بنت (مخاض) (٣) (او) (٤) ابن لبون ذكر اكبر منها بعام إلى خمس و (ثلاثين) (٥) فإن زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى خمس واربعين، فإن زادت واحدة ففيها حقة طروقة الفحل إلى ستين، فإن زادت واحدة ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها (بنتا) (٦) لبون إلى تسعين، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة، فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين من الإبل حقة، ولا يجمع بين (مفترق) (٧) ولا يفرق بين مجتمع (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ح].
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٣) في [ز] زيادة: (بنت لبون إلى خمس وأربعين مخاض).
(٤) في [ص]: (و).
(٥) في [أ، ب]: (وعشرين).
(٦) في [ص]: (بنت).
(٧) في [أ، ب]: (متفرق)؛ وفي [ح، ك]: (مفرق).
(٨) حسن؛ عاصم بن ضمرة صدوق.
حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي ، قال: " في خمس من الإبل شاة إلى تسع، فإن زادت واحدة ففيها شاتان إلى اربع عشرة، فإن زادت واحدة ففيها ثلاث شياه إلى تسع عشرة، فإن زادت واحدة ففيها اربع إلى اربع وعشرين، فإن زادت واحدة ففيها خمس شياه، فإن زادت واحدة ففيها بنت مخاض او ابن لبون ذكر اكبر منها بعام إلى خمس وثلاثين، فإن زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى خمس واربعين، فإن زادت واحدة فيها حقة طروقة الفحل إلى ستين، فإن زادت واحدة ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها بنتا لبون إلى تسعين، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة، فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين من الإبل حقة، ولا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع"
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ پانچ اونٹوں پہ ایک بکری ہے نو تک، جب نو سے ایک زائد ہوجائے تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، جب اس پر ایک زائد ہوجائے تو انیس تک تین بکریاں ہیں، اور جب انیس سے ایک زائد ہوجائے تو چوبیس تک چار بکریاں ہیں، اور اس پر ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پانچ بکریاں ہیں، اور جب پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض یا ابن لبون جو مذکر ہو اور جو اس سے ایک سال بڑا ہوتا ہے وہ دینا پڑے گا پینتیس تک، اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر ایک بنت لبون آئے گا پینتالیس تک، اور جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک طاقتور نر حقہ آئے گا، اور جب ساٹھ سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر تک ایک جذعہ آئے گا، اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو نوے تک دو بنت لبون آئیں گے اور جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے آئیں گے۔ اور جب اونٹ ایک سو بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس اونٹوں پر ایک حقہ ہے جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10153]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10153، ترقيم محمد عوامة 9983)
ترقیم عوامۃ: 9984 ترقیم الشثری: -- 10154
١٠١٥٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (عبيد الله) (١) (عن) (٢) نافع قال: وجد في وصية عمر في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (عبد اللَّه) وسيأتي الأثر برقم [١٠١٧٣].
(٢) في [ب]: (بن).
(٣) منقطع؛ نافع عن عمر منقطع.
حدثنا حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله، عن نافع، قال:" وجد في وصية عمر في خمس وعشرين من الإبل بنت مخاض"
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی وصیت میں یہ لکھا ہوا پایا گیا تھا کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10154]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10154، ترقيم محمد عوامة 9984)
ترقیم عوامۃ: 9985 ترقیم الشثری: -- 10155
١٠١٥٥ - حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن الشعبي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (قطر).
حدثنا وكيع، عن فطر، عن الشعبي،
حضرت فضیل اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض اونٹ زکوٰۃ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10155]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10155، ترقيم محمد عوامة 9985)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 10156
١٠١٥٦ - وعن فضيل عن إبراهيم (قالا) (١) : في خمس وعشرين بنت مخاض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ز]: (قال).
وعن فضيل، عن إبراهيم، قالا:" في خمس وعشرين بنت مخاض"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10156، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 9986 ترقیم الشثری: -- 10157
١٠١٥٧ - حدثنا ابن مبارك عن (بهز) (١) بن حكيم عن ابيه عن جده قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"في كل إبل سائمة (اربعين) (٢) بنت لبون، لا يفرق إبل عن حسابها من اعطاها (مؤتجرا) (٣) فله اجره، عزمة من عزمات ربنا، لا يحل (لآل) (٤) محمد منها شيء" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص، ز، هـ]: (حرام)؛ وفي [ك]: (بياض).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ص، ز، ك].
(٣) في [ح]: (متجرا).
(٤) في [ص]: (لا).
(٥) حسن؛ بهز بن حكيم وأبوه صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٠١٦)، وأبو داود (١٥٧٥)، والنسائي ٥/ ٢٥، وابن خزيمة (٢٢٦٦)، والحاكم ١/ ٣٩٨، وأبو عبيد في الأموال (٩٨٧)، وابن زنجويه (١٤٤٣)، والدارمي (١٦٧٧)، والطحاوي ٢/ ٩، والطبراني ١٩/ (٩٨٤) والبيهقي (٤/ ١٠٥)، وابن حزم في المحلى ٦/ ٥٧، والخطيب ٩/ ٤٤٨، وابن الجارود (٣٤١).
حدثنا ابن مبارك ، عن حرام بن حكيم ، عن ابيه ، عن جده ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " في كل إبل سائمة اربعين بنت لبون، لا يفرق إبل عن حسابها من اعطاها مؤتجرا فله اجره عزمة من عزمات ربنا، لا يحل لآل محمد منها شيء"
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چرنے والے اونٹ اگر چالیس ہوجائیں تو اس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے، اونٹ کو اس کے حساب سے جدا نہیں کریں گے، اور جو شخص زکوٰۃ ادا کرے اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہوئے تو اسکے لئے اسکا اجر ہے، عزیمۃ ہے ہمارے رب کی عزیمتوں میں سے۔ ٰال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز بھی حلال نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10157، ترقيم محمد عوامة 9986)
ترقیم عوامۃ: 9987 ترقیم الشثری: -- 10158
١٠١٥٨ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن موسى بن (عقبة) (٢) عن نافع عن (ابن عمر) (٣) قال: قال عمر: إذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: بياض.
(٢) في [أ، ب]: (عتبة).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال عمر : " إذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين بنت لبون"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اونٹ زیادہ ہوجاتے تو حضرت عمر ہر پچاس پر ایک حقہ وصول فرماتے اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون وصول فرماتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10158، ترقيم محمد عوامة 9987)
ترقیم عوامۃ: 9988 ترقیم الشثری: -- 10159
١٠١٥٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: في كل خمس وعشرين بنت مخاض.
حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن إبراهيم، قال: " في كل خمس وعشرين بنت مخاض"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض زکوٰۃ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10159، ترقيم محمد عوامة 9988)
ترقیم عوامۃ: 9989 ترقیم الشثری: -- 10160
١٠١٦٠ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد قال: كان (١) الكتاب الذي كتب (٢) عمر بن عبد العزيز حين بعثهم يصدقون في الإبل إذا بلغت خمسا وعشربن ففيها بنت مخاض فإذا زادت فابن لبون (ذكر) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ] زيادة: (في).
(٢) في [هـ] زيادة: (معهم).
(٣) سقط من: [ك].
حدثنا يعلى بن عبيد، عن يحيى بن سعيد قال، كان الكتاب الذي كتب معهم عمر بن عبد العزيز حين بعثهم يصدقون في الإبل: " إذا بلغت خمسا وعشرين ففيها بنت مخاض فإذا زادت فابن لبون ذكر"
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا تو ان کو ایک خط لکھا، آپ نے لکھا کہ پچیس اونٹوں پر ایک بنت مخاض زکوٰۃ ہے اور جب اس سے زائد ہوجائیں تو ایک مذکر ابن لبون زکوٰۃ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10160]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10160، ترقيم محمد عوامة 9989)