مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
26. ما لا يجوز في الصدقة ولا يأخذ المصدق
’’زکوٰۃ میں کیا چیز جائز نہیں ہے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا نہیں وصول کرے گا‘‘
ترقیم عوامۃ: 10091 ترقیم الشثری: -- 10266
١٠٢٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) عباد بن عوام عن سفيان (بن) (٢) حسين عن الزهري عن سالم عن ابن عمر قال: كتب رسول الله ﷺ كتاب الصدقة، فقرنه بسيفه، او قال بوصيته، (فلم) (٣) يخرجه إلى عماله حتى قبض (٤) . عمل به ابو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر:"لا يؤخذ في الصدقة ⦗٢٠٣⦘ هرمة ولا ذات عوار" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ص]: (عن).
(٣) في [أ، ب، ص]: (ثم) وفي [ك]: (لم).
(٤) في [هـ] زيادة: (ثم).
(٥) ضعيف؛ لضعف سفيان في الزهري، أخرجه أحمد (٤٦٣٢)، وأبو داود (١٥٦٨)، والترمذي (٦٢١)، وابن ماجه (١٧٩٨)، وابن خزيمة (٢٢٦٧)، والحاكم (١/ ٣٩٢)، وأبو يعلى (٥٤٧٠)، والدارمي (١/ ٣٨٢)، وأبو عبيد في الأموال (٩٣٥)، والبيهقي (٤/ ٨٨).
حدثنا ابو بكر، حدثنا عباد بن عوام ، عن سفيان بن حسين ، عن الزهري ، عن سالم ، عن ابن عمر ، قال: كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتاب الصدقة فقرنه بسيفه، او قال بوصيته، فلم يخرجه إلى عماله حتى قبض، عمل به ابو بكر حتى هلك، ثم عمل به عمر: " لا يؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوٰۃ کے احکامات لکھوائے اور ان اپنی تلوار کے ساتھ رکھا یا وصیت کے ساتھ، پھر ان کو دوبارہ زکوٰۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے کوچ کر گئے، آپ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ آپ بھی رخصت ہوگئے، پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ (اس میں لکھا تھا کہ) زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10266، ترقيم محمد عوامة 10091)
ترقیم عوامۃ: 10092 ترقیم الشثری: -- 10267
١٠٢٦٧ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: لا ياخذ المصدق هرمة ولا ذات عوار ولا تيسا إلا ان يشاء المصدق (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عاصم صدوق.
حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي ، قال: " لا ياخذ المصدق هرمة ولا ذات عوار ولا تيسا إلا ان يشاء المصدق"
حضرت علی رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار (کانا) جانور وصول نہ کرے اور نہ ہی وہ بکری کا بچہ جو بکرا بن گیا ہو ہاں اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا چاہے تو (ان کو وصول کرسکتا ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10267، ترقيم محمد عوامة 10092)
ترقیم عوامۃ: 10093 ترقیم الشثری: -- 10268
١٠٢٦٨ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن ابي عبيدة عن عبد الله قال: ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار (ولا) (١) جداء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح] سقط: (ولا).
(٢) ضعيف؛ خصيف وأبو عبيدة من ابن مسعود.
حدثنا حدثنا عبد السلام بن حرب، عن خصيف، عن ابي عبيدة، عن عبد الله ، قال: " ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار ولا جداء"
حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ جانور جس کا دودھ نہ آتا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10268، ترقيم محمد عوامة 10093)
ترقیم عوامۃ: 10094 ترقیم الشثری: -- 10269
١٠٢٦٩ - [حدثنا عبد السلام عن ليث عن نافع عن ابن عمر قال: ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار ولا جداء] (١) إلا ان يشاء المصدق (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: سقط ما بين القوسين.
(٢) ضعيف؛ لضعف ليث.
حدثنا عبد السلام ، عن ليث ، عن نافع ، عن ابن عمر ، قال: " ليس للمصدق هرمة ولا ذات عوار ولا جداء إلا ان يشاء المصدق"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا بوڑھا جانور عیب دار جانور اور وہ جانور جس کا دودھ نہ آتا ہو وہ وصول نہیں کرے گا ہاں اگر وہ خود چاہے تو لے سکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10269، ترقيم محمد عوامة 10094)
ترقیم عوامۃ: 10095 ترقیم الشثری: -- 10270
١٠٢٧٠ - حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة قال: سمعت سليمان بن يسار قال: لا يجزئ في الصدقة ذات عوار (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ] زيادة: (كثير).
حدثنا وكيع، عن موسى بن عبيدة، قال سمعت سليمان بن يسار، قال: " لا يجزي في الصدقة ذات عوار"
حضرت موسیٰ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلیمان بن یسار سے سنا وہ ارشاد فرماتے تھے کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ عیب دار جانور وصول کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10270، ترقيم محمد عوامة 10095)
ترقیم عوامۃ: 10096 ترقیم الشثری: -- 10271
١٠٢٧١ - حدثنا كثير بن هشام (١) عن جعفر بن ميمون قال: لا يؤخذ في (الصدقة) (٢) العجفاء ولا العوراء (ولا الجرباء) (٣) ولا العرجاء التي ⦗٢٠٤⦘ لا (تتبع) (٤) الغنم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ] زيادة: (عن هشام).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ب] سقطت: (الجرباء).
(٤) في [ك]: (يتبع).
حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن ميمون، قال: " لا يؤخذ في الصدقة العجفاء ولا العوراء ولا الجرباء ولا العرجاء التي لا تتبع الغنم"
حضرت جعفر بن میمون ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ (وصول کرنے والا) کمزور جانور کو، عیب دار جانور کو، خارشی جانور کو اور اس طرح لنگڑا جانور جو بکریوں کے پیچھے نہ چل سکتا ہو ان کو وصول نہیں کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10271]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10271، ترقيم محمد عوامة 10096)