🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

104. في نصارى بني (تغلب) ما يؤخذ منهم؟
بنو تغلب کے نصاریٰ سے کیا وصول کیا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10683 ترقیم الشثری: -- 10886
١٠٨٨٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن إبراهيم بن المهاجر عن زياد ابن (حدير) (١) قال: بعثني عمر إلى نصارى بني (تغلب) (٢) وامرني ان آخذ نصف عشر اموالهم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (جدير).
(٢) في [ص]: (ثغلب).
(٣) حسن؛ إبراهيم وشريك صدوقان.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا شريك، عن إبراهيم بن المهاجر، عن زياد بن حدير، قال: بعثني عمر إلى نصارى بني تغلب" وامرني ان آخذ نصف عشر اموالهم"
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے مجھے بنو تغلب کے نصاریٰ کے پاس بھیجا اور حکم فرمایا کہ میں ان سے ان کے اموال کا نصف عشر وصول کروں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10886]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10886، ترقيم محمد عوامة 10683)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10684 ترقیم الشثری: -- 10887
١٠٨٨٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن السفاح (بن) (١) مطر عن داود ابن كردوس عن عمر بن الخطاب انه صالح نصارى بني تغلب على ان تضعف عليهم الزكاة مرتين، وعلى ان (لا) (٢) ينصروا صغيرا، و (على) (٣) ان لا يكرهوا على دين غيرهم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ح].
(٣) سقط من: [أ].
(٤) مجهول، لجهالة داود بن كردوس.

حدثنا حدثنا علي بن مسهر، عن الشيباني، عن السفاح بن مطر، عن داود بن كردوس، عن عمر بن الخطاب ، انه " صالح نصارى بني تغلب على ان تضعف عليهم الزكاة مرتين، وعلى ان لا ينصروا صغيرا، وعلى ان لا يكرهوا على دين غيرهم"
حضرت داؤد بن کردوس سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بنو تغلب کے نصاریٰ کے ساتھ (اس شرط پہ) صلح فرمائی تھی کہ ان سے زکوٰۃ کا دو گنا وصول کیا جائے گا۔ اور ان کے چھوٹوں کو نصاریٰ نہیں بنایا جائے گا، اور نہ ہی ان کو کسی غیر دین پر مجبور کیا جائے گا۔ داؤد راوی فرماتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے، تحقیق وہ نصرانی ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10887، ترقيم محمد عوامة 10684)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 10888
١٠٨٨٨ - قال: داود (و) (١) ليست لهم ذمة قد نصروا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من [ص، هـ].
قال داود: وليست لهم ذمة قد نصروا
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10888، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10685 ترقیم الشثری: -- 10889
١٠٨٨٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الله بن محمد بن زياد بن حدير (١) قال: كنت مع جدي، فمر عل نصراني بفرس قيمته [عشرون الفا، فقال له: إن شئت اعطيت الفين وإن شئت اخذت الفرس واعطيناك (قيمته) (٢) ] (٣) ثمانية عشر الفا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) انظر: تاريخ ابن معين ٣/ ٤٣٩، والتاريخ الكبير ٤/ ٩٤، والجرح والتعديل ٤/ ٢٢١، وتاريخ بغداد ١١/ ٢٨٦، والأموال لأبي عبيد ١/ ٦٤١، وغريب الحديث للحربي ١/ ٦٩، وأحكام أهل الذمة ١/ ٣٤٣.
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ح].

حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن زياد بن حدير، قال: كنت مع جدي، فمر على نصراني بفرس قيمته عشرون الفا فقال له:" إن شئت اعطيت الفين وإن شئت اخذت الفرس واعطيناك قيمته ثمانية عشر الفا"
حضرت زیاد بن حدیر فرماتے ہیں کہ میں اپنے دادا کے ساتھ تھا، ہمارے پاس سے ایک نصرانی گھوڑے پر سوار ہو کر گزرا اور اس کے گھوڑے کی قیمت بیس ہزار (درہم) تھی، انہوں نے اس نصرانی سے کہا اگر تو چاہے تو دو ہزار دے دیں، اور اگر تو چاہے تو میں گھوڑا لے لوں اور ہم تجھے اس کی قیمت اٹھارہ ہزار (درہم) دے دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10889، ترقيم محمد عوامة 10685)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10686 ترقیم الشثری: -- 10890
١٠٨٩٠ - حدثنا ابو اسامة عن سعيد عن قتادة عن ابي مجلز ان عمر بعث (١) عثمان بن خيف، فجعل على اهل الذمة في اموالهم التي يختلفون بها في كل عشرين درهما درهما، وكتب بذلك إلى عمر (بن الخطاب) (٢) ، فرضي واجازه، وقال لعمر: كم تامرنا ان ناخذ من (تجار) (٣) اهل (الحرب) (٤) ؛ قال: كم ياخذون منكم إذا اتيتم (بلادهم) (٥) ؟ قالوا: العشر، قال: فكذلك فخذوا منهم (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [أ]: (إلى عمر ترضي وأجازه).
(٢) زيادة من [ز].
(٣) في [أ، ح]: (تجارة).
(٤) في [ب]: (الذمة).
(٥) في [أ، ح]: (بدارهم).
(٦) منقطع؛ أبو مجلز لم يدرك عمر.

حدثنا حدثنا ابو اسامة، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي مجلز، ان عمر بعث عثمان بن حنيف فجعل على اهل الذمة في اموالهم التي يختلفون بها في كل عشرين درهما درهما، وكتب بذلك إلى عمر فرضي واجازه وقال لعمر: كم تامرنا ان ناخذ من تجار اهل الحرب؟ قال:" كم ياخذون منكم إذا اتيتم بلادهم؟" قالوا: العشر , قال:" فكذلك فخذوا منهم"
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان بن حنیف کو (عشر وغیرہ وصول کرنے کیلئے) بھیجا، انہوں نے ذمیوں کے اموال پر جو دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور تجارت کرتے تھے ہر بیس درہم پر ایک درہم مقرر کردیا، اور حضرت عمر فاروق کو یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آپ اس پر راضی ہوگئے اور اس کی اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمر فاروق سے عرض کیا کہ: آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم اہل حرب کے تاجروں سے کتنا وصول کریں؟ آپ نے فرمایا جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو تو تم سے کتنا وصول کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا عشر، تو آپ نے فرمایا اتنا ہی تم ان سے وصول کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10890، ترقيم محمد عوامة 10686)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10687 ترقیم الشثری: -- 10891
١٠٨٩١ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن (عبيد) (١) الله بن عبد الله (ان) (٢) عمر بن الخطاب استعمل اباه ورجلا آخر على صدقات اهل (الذمة) (٣) مما يختلفون به إلى المدينة، فكان يامرهم ان ياخذوا (من) (٤) القمح نصف العشر تخفيفا عليهم؛ ليحملوا (إلى) (٥) المدينة ومن القطنية -وهي الحبوب- العشر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (عبد).
(٢) في [أ، ح]: (عن).
(٣) في [ص، أ، ح]: (المدنية).
(٤) في [هـ]: (عن).
(٥) في [هـ]: (على).
(٦) منقطع، عبيد اللَّه بن عبد اللَّه لا يروي عن عمر.

حدثنا حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب ، استعمل اباه ورجلا آخر على صدقات اهل الذمة مما يختلفون به إلى المدينة، فكان يامرهم:" ان ياخذوا من القمح نصف العشر تخفيفا عليهم ليحملوا إلى المدينة، ومن القطنية وهي الحبوب العشر"
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے میرے والد اور ایک دوسرے شخص کو ذمیوں سے صدقات (عشر وغیرہ) وصول کرنے کا عامل مقرر فرمایا جو مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور وہاں کاروبار کرتے تھے، اور آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ گیہوں میں سے ان پر تخفیف کرتے ہوئے نصف عشر وصول کرنا تا کہ وہ شہر کی طرف اس کو اٹھائیں۔ اور دالوں وغیرہ پر عشر وصول کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10891، ترقيم محمد عوامة 10687)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10688 ترقیم الشثری: -- 10892
١٠٨٩٢ - حدثنا ابن إدريس عن ابيه عن حماد عن إبراهيم قال: يؤخذ من اهل الذمة من كل عشرين درهما (درهم) (١) ، ومن اهل الحرب من كل عشرة (دراهم) (٢) درهم ومن اهل الذمة إذا اتجروا في (الخمر) (٣) من كل عشرة دراهم درهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (درهمًا).
(٢) سقط في [ب].
(٣) في [ز]: (الخمس)؛ وفي [ص]: (الحرب).

حدثنا ابن إدريس، عن ابيه، عن حماد، عن إبراهيم، قال: " يؤخذ من اهل الذمة من كل عشرين درهما درهم، ومن اهل الحرب من كل عشرة دراهم درهم، ومن اهل الذمة إذا اتجروا في الخمر من كل عشرة دراهم درهم"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ذمیوں سے ہر بیس درہم کے بدلے ایک درہم وصول کیا جائے گا اور حربیوں سے دس درہم کے بدلے ایک درہم وصول کیا جائے گا، اور جو ذمی شراب کا کاروبار کرتے ہیں ان سے ہر دس درہم پر ایک درہم وصول کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10892، ترقيم محمد عوامة 10688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10689 ترقیم الشثری: -- 10893
١٠٨٩٣ - حدثنا يعلى عن يحيى بن سعيد عن (رزيق) (١) مولى بني فزارة ابي عمر بن (الخطاب) (٢) كتب إليه: خذ ممن مر بك من تجار اهل الذمة فيما يظهرون ⦗٣٥٧⦘ من اموالهم ويديرودن من التجارات من كل عشرين دينارا (دينارا) (٣) ، فما نقص منها فبحسابها حتى (تبلغ) (٤) عشرة، فإذا (نقصت) (٥) ثلاثة دنانير، فدعها لا تاخذ منها شيئا واكتب لهم براءة إلى مثلها من الحول بما تاخذ منهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (رزين).
(٢) كذا في النسخ ولعلها (عبد العزيز) لأنه لم يدرك (ابن الخطاب) ﵁؛ وإنما كان (رزيق) عاملًا لبني أمية.
(٣) في [أ، ح]: (دينار).
(٤) في [ح]: (يبلغ).
(٥) في [أ، ح]: (انقضت).

حدثنا حدثنا يعلى، عن يحيى بن سعيد، عن رزيق مولى بني فزازة، ان عمر بن الخطاب ، كتب إليه: " خذ ممن مر بك من تجار اهل الذمة فيما يظهرون من اموالهم ويديرون من التجارات من كل عشرين دينارا دينارا، فما نقص منها فبحسابها حتى تبلغ عشرة، فإذا نقصت ثلاثة دنانير فدعها لا تاخذ منها شيئا، واكتب لهم براءة إلى مثلها من الحول بما تاخذ منهم"
حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے میری طرف لکھ کر بھیجا کہ: ذمی تاجر جو تیرے پاس سے گذریں اور جو مال ان کا ظاہر کیا جاتا ہے اور تجارت میں گھومتا ہے تو ہر بیس دینار پر ایک دینار وصول کرنا، اور جو اس سے کم ہو تو اس سے اسی کمی کے حساب سے وصول کرنا، یہاں تک کہ دس تک پہنچ جائے، پھر جب اس سے بھی تین دینار کم ہوجائیں تو پھر چھوڑ دے کچھ بھی وصول نہ کرو اور ان کیلئے ان سے براءت لکھ دو جو (آگے) وصول کرنے والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10893، ترقيم محمد عوامة 10689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10690 ترقیم الشثری: -- 10894
١٠٨٩٤ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن ابي ذئب قال: وسالت الزهري عن جزية نصارى كلب وتغلب، فقال: بلغنا انه يؤخذ منهم نصف العشر (من) (١) مواشيهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عن).
حدثنا حماد بن خالد، عن ابن ابي ذئب، قال: وسالت الزهري، عن جزية نصارى كلب وتغلب , فقال:" بلغنا انه يؤخذ منهم نصف العشر من مواشيهم"
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام زہری سے بنو کلب اور بنو تغلب کے جزیہ سے متعلق دریافت کیا؟ آپ نے فرمایا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کے مویشوں پر نصف عشر لیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10894، ترقيم محمد عوامة 10690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں