مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ما قالوا في توجيه الميت
میت کا رخ (کس طرف) رکھا جائے اس کا بیان
ترقیم عوامۃ: 10976 ترقیم الشثری: -- 11182
١١١٨٢ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: حدثني يحيى بن ابي راشد (النصري) (٢) قال: قال عمر ( (٣) لابنه) (٤) حين حضرته ⦗٤٥٠⦘ الوفاة (٥) : إذا حضرت الوفاة (فاحرفني) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ص]: (عن).
(٢) في [أ، ب، ح، هـ]: (البصرى) وانظر: تاريخ دمشق ٦٤/ ١٥٨، وطبقات ابن سعد ٣/ ٣٥٨؛ ففيها بالنون، وفي التاريخ الكبير ٨/ ٢٧١، والجرح والتعديل ٩/ ١٤٣ (البصري).
(٣) في [ح]: زيادة (حين).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ز]: زيادة (لابنه).
(٦) في [هـ]: (فاصرفني).
(٧) منقطع؛ يحيى لم يدرك عمر، أخرجه ابن سعد (٣/ ٣٥٨) وابن عساكر (٤٤/ ٤٤٦).
حدثنا حدثنا ابو اسامة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، قال: حدثني يحيى بن ابي راشد البصري، قال: قال عمر لابنه حين حضرته الوفاة: " إذا حضرت الوفاة فاحرفني"
حضرت یحییٰ بن راشد البصری سے مروی ہے کہ حضرت عمر کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرا رخ قبلے کی طرف کردینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11182، ترقيم محمد عوامة 10976)
ترقیم عوامۃ: 10977 ترقیم الشثری: -- 11183
١١١٨٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون ان يوجه الميت (١) القبلة إذا حضر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (إلى القبلة).
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال:" كانوا يستحبون ان يوجه الميت القبلة إذا حضر"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں صحابہ کرام اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11183]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11183، ترقيم محمد عوامة 10977)
ترقیم عوامۃ: 10978 ترقیم الشثری: -- 11184
١١١٨٤ - حدثنا محمد بن ابي عدي عن اشعث عن (الحسن) (١) قال: كان يحب ان يستقبل بالميت القبلة إذا كان في الموت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الحسين).
حدثنا محمد بن ابي عدي، عن اشعث، عن الحسن، قال:" كان يحب ان يستقبل بالميت القبلة إذا كان في الموت"
حضرت اشعث سے مروی ہے کہ حضرت حسن اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11184]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11184، ترقيم محمد عوامة 10978)
ترقیم عوامۃ: 10979 ترقیم الشثری: -- 11185
١١١٨٥ - حدثنا (عمر) (١) بن هارون عن ابن جريج عن عطاء قال (قلت) (٢) : كان يستحب ان يوجه الميت [عند نزعه إلى القبلة قال: نعم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ، ص، ز]: (عمرو).
(٢) في [هـ، ص، ز]: زيادة (قلت).
حدثنا عمر بن هارون، عن ابن جريج، عن عطاء، قال: قلت:" كان يستحب ان يوجه الميت عند نزعه إلى القبلة قال: نعم"
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضر ت عطاء سے پوچھا نزع کے وقت میت کا رخ قبلہ کی طرف کرنا مستحب ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11185]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11185، ترقيم محمد عوامة 10979)
ترقیم عوامۃ: 10980 ترقیم الشثری: -- 11186
١١١٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: إن شئت فوجه الميت] (١) وإن شئت فلا توجهه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن جابر، عن عامر، قال: " إن شئت فوجه الميت، وإن شئت فلا توجهه"
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر آپ چاہو تو مرنے والے کا رخ قبلہ کی طرف کردو اگر نہ چاہو تو نہ کرو (کوئی حرج نہیں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11186، ترقيم محمد عوامة 10980)
ترقیم عوامۃ: 10981 ترقیم الشثری: -- 11187
١١١٨٧ - حدثنا جعفر بن (عون) (١) عن سفيان عن إسماعيل بن امية عن سعيد ابن المسيب انه كرهه وقال: (اليس) (٢) الميت (إمرءا مسلما) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عوف).
(٢) سقط من: [أ، ب، ز، ح، ص].
(٣) في [ص]: (أمر سلما).
حدثنا جعفر بن عون، عن سفيان، عن إسماعيل بن امية، عن سعيد بن المسيب، انه كرهه وقال:" اليس الميت امرءا مسلما"
حضرت اسماعیل بن امیہ سے مروی ہے کہ حضر ت سعید بن المسیب اس کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کیا مرنے والا مسلمان نہیں ہے؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11187]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11187، ترقيم محمد عوامة 10981)
ترقیم عوامۃ: 10982 ترقیم الشثری: -- 11188
١١١٨٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن ابي مالك الاشجعي عن ربعي بن (حراش) (١) قال: لما كانت ليلة مات (فيها) (٢) حذيفة دخل عليه ابو مسعود فقال: (تنح) (٣) فقد طال (ليلك) (٤) ، فاسنده إلى صدره فافاق، فقال: اي ساعة هذه؟ قالوا: (السحر) (٥) ، فقال حذيفة: اللهم إني اعوذ بك من صباح إلى النار و (مسائها) (٦) ثم (اضجعناه) (٧) فقضى (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ح، ص، ز]: (خراش).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (تنحى).
(٤) في [هـ]: (بليل).
(٥) في [ح]: (الليل).
(٦) في [هـ]: (مساء بها).
(٧) في [أ، ب، ص]: (أضجعناه)، وفي [ح]: (اضطجع)، وفي [هـ، ز]: (اضطجعناه).
(٨) صحيح، أخرجه ابن شبه ٢/ ٢٦٨، وابن أبي جرادة في بغية الطلب ٥/ ٢١٧٢، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (١٢٩)، وابن الجوزي في الثبات عند الممات ١/ ١٢٢.
حدثنا حدثنا مروان بن معاوية، عن ابي مالك الاشجعي، عن ربعي بن حراش، قال: لما كانت ليلة مات فيها حذيفة دخل عليه ابو مسعود، فقال: تنحي , فقد طال ليلك، فاسنده إلى صدره فافاق، فقال: اي ساعة هذه؟ قالوا: السحر، فقال حذيفة : " اللهم إني اعوذ بك من صباح إلى النار ومساء بها، ثم اضجعناه فقضى"
حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ جس رات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اس رات حضرت ابو مسعود ان کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا ایک طرف ہٹ جاؤ، تحقیق تمہاری رات لمبی ہوگی پھر آپ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا تو آپ کو کچھ افاقہ ہوا آپ نے فرمایا: یہ کونسا وقت ہے؟ لوگوں نے عرض کیا سحری کا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ صبح کے وقت یا شام کے وقت آگ پر آؤں، پھر ہم نے آپ کو پہلو پر لٹا دیا اور آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11188]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11188، ترقيم محمد عوامة 10982)
ترقیم عوامۃ: 10983 ترقیم الشثری: -- 11189
١١١٨٩ - حدثنا ابو عامر العقدي عن محمد بن قيس قال: حدثني زرعة بن عبد الرحمن انه شهد سعيد بن المسيب في مرضه وعنده ابو سلمة بن عبد الرحمن فغشي على سعيد، فامر ابو سلمة ان يحول فراشه إلى الكعبة، فافاق، فقال: حولتم فراشي؟ فقالوا: نعم، فنظر إلى ابي سلمة فقال: اراه (عملك) (١) ، فقال: (اجل) (٢) انا (امرتهم) (٣) ، (فقال) (٤) : فامر سعيد ان يعاد فراشه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ح، ص، ز، هـ]: (علمك).
(٢) في [أ، ب، ص، ز]: زيادة (أجل).
(٣) في [ص]: (مرتهم).
(٤) في [ح، ص، ز]: (قال).
حدثنا ابو عامر العقدي، عن محمد بن قيس، قال: حدثني زرعة بن عبد الرحمن، انه شهد سعيد بن المسيب في مرضه وعنده ابو سلمة بن عبد الرحمن، فغشي على سعيد، فامر ابو سلمة ان يحول فراشه إلى الكعبة، فافاق فقال: حولتم فراشي، فقالوا: نعم، فنظر إلى ابي سلمة، فقال: اراه علمك، فقال: اجل انا امرتهم، فقال: فامر سعيد ان يعاد فراشه
حضرت زرعہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب کے مرض میں حاضر ہوا آپ کے پاس حضرت ابو سلمہ ابن عبد الرحمن تشریف فرما تھے۔ حضرت سعید بن المسیب پر غشی طاری ہوگئی، حضرت ابو سلمہ نے حکم دیا کہ حضرت سعید کا بستر قبلہ کی طرف پھیرا جائے جس کی وجہ سے آپ کو افاقہ ہوا۔ حضرت سعید نے پوچھا کہ تم نے میرے بستر کو پھیرا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، حضرت سعید نے حضرت ابو سلمہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تیرا کام ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے ہی انہیں کہا تھا، حضرت سعید نے اپنے بستر کو دوبارہ واپس اسی طرف پھیرنے کا حکم دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11189، ترقيم محمد عوامة 10983)