🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ:
باب: قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 823 ترقیم شاملہ: -- 1914
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ، فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 أَدَالًا، أَمْ ذَالًا؟ قَالَ: بَلْ دَالًا، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُدَّكِرٍ دَالًا ".
زہیر نے کہا: ہم سے ابواسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید (سبیعی کوفی) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس (آیت) کو کیسے پڑھتے ہو؟ دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ» دال کے ساتھ پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1914]
ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید سے، جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے، سوال کیا: تم اس آیت کو کیسے پڑھتے ہو؟ ﴿فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 17] دال پڑھتے ہو یا ذال؟ انہوں نے جواب دیا: دال پڑھتا ہوں۔ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ﴿مُّدَّكِرٍ﴾ دال کے ساتھ سنا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1914]
ترقیم فوادعبدالباقی: 823
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 823 ترقیم شاملہ: -- 1915
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْف: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ".
شعبہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمے «مُّدَّکِرٍ» کو (دال کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1915]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمہ کو ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 15] پڑھتے تھے، یعنی دال پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1915]
ترقیم فوادعبدالباقی: 823
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1916
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ، فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا، قَالَ: " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ، وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ ".
اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ (بن قیس کوفی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں میں (پڑھتا ہوں)۔ انہوں نے پوچھا: تم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ آیت «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» کیسے پڑھتے سنا ہے؟ (میں نے) کہا: میں نے انہیں «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھتے سنا۔ انہوں نے کہا: اور میں نے بھی اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں «وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ» پڑھوں، میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا۔ (ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ عنہما غالباً قراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سکھائی تھی۔) [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1916]
علقمہ سے روایت ہے کہ ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا: کیا تم میں سے کوئی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں پڑھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں میں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: تم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ آیت کیسے پڑھتے سنا ہے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] ؟ میں نے کہا: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 1-3] انہوں نے کہا: اور میں نے بھی اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ حضرات چاہتے ہیں کہ ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ‌ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھوں، میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1916]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1917
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1917]
علقمہ رحمہ اللہ شام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، ایک آدمی آیا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ انقباض رکھتا ہے اور ان کی کیفیت و ہیئت سے ناراض ہے، وہ میرے پہلو میں بیٹھ گیا، پھر اس نے پوچھا: کیا تمہیں یاد ہے عبداللہ رضی اللہ عنہ کیسے پڑھتے تھے؟ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1918
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: مِنْ أَيِّهِمْ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، قَالَ: فَقَرَأْتُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ".
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے داود بن ابی ہند سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے پوچھا: ان کے کون سے لوگوں میں سے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے، انہوں نے پوچھا: کیا تم (قرآن مجید) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ» پڑھو۔ میں نے پڑھا: «وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَیٰ ﴿﴾ وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلَّیٰ ﴿﴾ وَالذَّکَرَ وَالْأُنثَیٰ»، کہا: وہ ہنس پڑے پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1918]
علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کن لوگوں سے ہو؟ میں نے کہا: اہلِ عراق سے۔ انہوں نے پوچھا: ان کے کن لوگوں سے؟ میں نے کہا: اہلِ کوفہ سے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] پڑھو۔ میں نے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 1-3] پڑھا، وہ ہنس پڑے پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1918]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1919
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے داود نے عامر (شعبی) سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا۔ آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی (مذکورہ بالا) حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1919]
علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ: میں شام آیا اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، آگے ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1919]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں