صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب مَا يَتَعَلَّقُ بِالْقِرَاءَاتِ:
باب: قرأت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 824 ترقیم شاملہ: -- 1917
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ، فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ، فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ قَالَ: أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: علقمہ ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے (ارد گرد) لوگوں کے اکھٹا ہونے اور (ان کی وجہ سے) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتا چل گیا (اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں)، (علقمہ نے کہا): وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ (بن مسعود) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمہیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی (پہلی حدیث کی) طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1917]
علقمہ رحمہ اللہ شام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، پھر لوگوں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے، ایک آدمی آیا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ انقباض رکھتا ہے اور ان کی کیفیت و ہیئت سے ناراض ہے، وہ میرے پہلو میں بیٹھ گیا، پھر اس نے پوچھا: ”کیا تمہیں یاد ہے عبداللہ رضی اللہ عنہ کیسے پڑھتے تھے؟“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 824
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1917 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1917
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر قوم سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ہوں تو معنی یہ ہوگا میں نے اس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جیسا عام مجلسوں سے پرہیز دیکھا اور انہیں جیسے ان کے طور واطوار دیکھے اور قوم سے مراد حلقہ والے لوگ ہوں تو معنی ہوگا میں نے دیکھا انھوں نے ان میں بیٹھنا پسند نہیں کیا اور ان کے طوروطریقہ کو اچھا خیال نہیں کیا اس لیے ایک طرف بیٹھے ان کےداخل نہیں ہوئے۔
فوائد ومسائل:
اگر قوم سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ہوں تو معنی یہ ہوگا میں نے اس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جیسا عام مجلسوں سے پرہیز دیکھا اور انہیں جیسے ان کے طور واطوار دیکھے اور قوم سے مراد حلقہ والے لوگ ہوں تو معنی ہوگا میں نے دیکھا انھوں نے ان میں بیٹھنا پسند نہیں کیا اور ان کے طوروطریقہ کو اچھا خیال نہیں کیا اس لیے ایک طرف بیٹھے ان کےداخل نہیں ہوئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1917]
Sahih Muslim Hadith 1917 in Urdu
المغيرة بن مقسم الضبي ← إبراهيم النخعي