مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
103. في الرجل يصلي على الجنازة (أله) (أن لا) يرجع حتى يؤذن له
کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو کیا اسکو بغرف اجازت واپس جانے کی اجازت ہے؟
ترقیم عوامۃ: 11656 ترقیم الشثری: -- 11883
١١٨٨٣ - حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن ابي عروبة عن داود بن ابي (القصاف) (١) قال: كنت مع ابي قلابة في جنازة، فلما صلى انصرف، قال: فقلت له: قبل ان يؤذن لك؟ قال: فقال اهم امراء علينا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الفرات)، وفي [ق]: (القصاب)، وفي [أ]: (القصان)، وفي [ص]: (القصار).
حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، عن ابن ابي عروبة، عن داود بن ابي الفرات، قال: كنت مع ابي قلابة في جنازة، فلما صلى انصرف، قال: فقلت له:" قبل ان يؤذن لك" قال: فقال:" اهم امراء علينا؟"
حضرت داؤد بن ابی القصاف فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو قلابہ کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، جب آپ نے نماز پڑھی آپ واپس لوٹ گئے، میں نے ان سے عرض کیا اجازت سے پہلے ہی آپ واپس جارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا وہ ہم پر حکمران (اور مسلط) ہیں؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11883، ترقيم محمد عوامة 11656)
ترقیم عوامۃ: 11657 ترقیم الشثری: -- 11884
١١٨٨٤ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن ابي عقيل قال: قلت له: على من تبع الجنازة إذن؟ قال: لا، ولكن يحتشم الرجل ان يرجع حتى يؤذن له.
حدثنا ابو داود الطيالسي، عن ابي عقيل، قال: قلت له: " على من تبع الجنازة إذن؟ قال: لا، ولكن يحتشم الرجل ان يرجع حتى يؤذن له"
حضرت ابو داؤد الطیالسی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عقیل سے دریافت کیا جو شخص جنازے کے ساتھ ہو اس کے لیے (واپس جانے کے لیے) اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، لیکن آدمی کی حیا میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اجازت کے بغیر نہ لوٹے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11884]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11884، ترقيم محمد عوامة 11657)
ترقیم عوامۃ: 11658 ترقیم الشثری: -- 11885
١١٨٨٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ثور عن محفوظ (بن) (١) علقمة عن (عبد الله) (٢) عن ابي هريرة قال: اميران (وليسا) (٣) (بآمرين) (٤) : المراة تكون مع الرفقة فتحج او تعتمر فيصيبها اذى من الحيض، قال: لا (ينفروا) (٥) حتى تطهر ⦗٦٥⦘ وتاذن لهم، والرجل يخرج مع الجنازة لا يرجع حتى يؤذن له او يدفنوها او يواروها (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [ز]: (عبد الملك)، وهكذا في [ص].
(٣) في: [ص]: (وليا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (بأميرين).
(٥) في [أ]: (تنفر)، وفي [هـ]: (تنفروا).
(٦) عبد اللَّه لم أعرفه، وانظر العلل للدارقطني ١١/ ١٨٢، وفتح الباري ٣/ ٥٩٠ وعمدة القاري ٨/ ١٢٦ و ١/ ٩٩٠، وضعفاء العقيلي ٣/ ٢٨٧، وبيان الوهم ٣/ ١٦٤ و (٤١٦) وسبل السلام ٢/ ١٠٦.
حدثنا حدثنا يحيى بن سعيد، عن ثور، عن محفوظ بن علقمة، عن عبد الله، عن ابي هريرة ، قال: " اميران وليسا بآمرين، المراة تكون مع الرفقة فتحج او تعتمر، فيصيبها اذى من الحيض" قال:" لا تنفروا حتى تطهر وتاذن لهم"، والرجل يخرج مع الجنازة لا يرجع حتى يؤذن له او يدفنوها او يواروها"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو امیر ایسے ہیں جو حقیقت میں امیر نہیں ایک وہ عورت جو کسی جماعت کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے جائے اور وہ حائضہ ہوجائے اب وہ جماعت اس وقت کوچ نہیں کرسکتی جب تک وہ پاک نہ ہوجائے یا ناپاکی کی حالت میں انہیں چلے جانے کی اجازت نہ دے دے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی جنازے کے ساتھ چلا جائے اب وہ اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کو اجازت نہ مل جائے یا جب تک میت کو دفن نہ کردیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11885]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11885، ترقيم محمد عوامة 11658)
ترقیم عوامۃ: 11659 ترقیم الشثری: -- 11886
١١٨٨٦ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن حبيب (ابي) (١) محمد قال: كنت مع الحسن في جنازة، فلما اذن لهم قلت للحسن: قد اذن لهم؟ قال: وهل علينا إذن.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ص]: (بن).
حدثنا مرحوم بن عبد العزيز، عن حبيب بن محمد، قال: كنت مع الحسن في جنازة، فلما اذن لهم قلت للحسن: قد اذن لهم قال:" وهل علينا إذن"
حضرت حبیب بن ابی محمد فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن کے ساتھ ایک جنازے میں تھا، پھر جب لوگوں کو اجازت دی گئی تو میں نے حضرت حسن سے کہا اجازت دے دی گئی ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا کیا ہمارے لئے اذن (ضروری) ہے؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11886]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11886، ترقيم محمد عوامة 11659)
ترقیم عوامۃ: 11660 ترقیم الشثری: -- 11887
١١٨٨٧ - [حدثنا حفص عن اشعث عن ابي الزبير عن جابر قال: يتبع الجنازة ما بدا له ويرجع إذا (بدا) (١) له] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (بدى).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ب].
حدثنا حدثنا حفص، عن اشعث، عن ابي الزبير، عن جابر ، قال: " يتبع الجنازة ما بدا له ويرجع إذا بدا له".
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جنازے کے ساتھ چلے جتنا اس کے لیے ظاہر ہو (گنجائش ہو) اور واپس لوٹ جائے جب اس کے لیے ظاہر ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11887]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11887، ترقيم محمد عوامة 11660)
ترقیم عوامۃ: 11661 ترقیم الشثری: -- 11888
١١٨٨٨ - حدثنا حفص عن اشعث عن الحسن مثله.
حدثنا حفص، عن اشعث، عن الحسن، مثله
حضرت حسن سے اسی کے مثل منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11888، ترقيم محمد عوامة 11661)
ترقیم عوامۃ: 11662 ترقیم الشثری: -- 11889
١١٨٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن طلحة عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: اميران (وليسا) (١) (بآمرين) (٢) : الرجل يصلي على الجنازة ليس له ان يرجع إلا بإذن اهلها، والمراة تكون مع القوم فتحيض قبل ان تطوف بالبيت يوم النحر ليس لهم ان ينفروا إلا بإذنها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (وليا).
(٢) في [أ، ب، ز]: (بأميرين).
(٣) ضعيف؛ لحال ليث.
حدثنا حدثنا ابن إدريس، عن ليث، عن طلحة، عن ابي حازم، عن ابي هريرة ، قال: " اميران وليسا بآمرين، الرجل يصلي على الجنازة ليس له ان يرجع إلا بإذن اهلها، والمراة تكون مع القوم فتحيض قبل ان تطوف بالبيت يوم النحر ليس لهم ان ينفروا إلا بإذنها"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی امیر نہ ہونے کے باوجود بھی امیر ہیں، کوئی شخص نماز جنازہ ادا کرے تو وہ بغیر اجازت کے واپس نہ لوٹے، اور کوئی عورت (حج کے سفر میں) ہے اور اس کو طواف سے پہلے یوم النحر میں حیض آجائے، تو ان کے لیے اس عورت کی اجازت کے بغیر نکلنا جائز نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11889، ترقيم محمد عوامة 11662)