مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
161. من قال يقام للجنازة إذا مرت
جب جنازہ گزرے اس کے لیے کھڑا ہوا جائے گا
ترقیم عوامۃ: 12037 ترقیم الشثری: -- 12277
١٢٢٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن ابي معشر عن سعيد بن المسيب (انه) (١) (شهده) (٢) وسالم بن عبد الله ومرت بهما جنازة فقام سالم ولم يقم سعيد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [ب، هـ]: (سعيد).
حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن شعبة، عن ابي معشر، عن سعيد بن المسيب، انه شهده وسالم بن عبد الله: " ومرت بهما جنازة، فقام سالم , ولم يقم سعيد"
حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب اور حضرت سالم بن عبد اللہ حاضر تھے کہ ان کے پاس سے جنازہ گزرا، حضرت سالم کھڑے ہوگئے لیکن حضرت سعید کھڑے نہ ہوئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12277]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12277، ترقيم محمد عوامة 12037)
ترقیم عوامۃ: 12038 ترقیم الشثری: -- 12278
١٢٢٧٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن الوليد بن المهاجر قال: رايت الشعبي مرت به جنازة فقام.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن الوليد بن المهاجر، قال: رايت الشعبي، مرت به جنازة فقام"
حضرت ولید بن المہاجر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کو دیکھا کہ ان کے پاس سے جنازہ گزرا تو وہ کھڑے ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12278]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12278، ترقيم محمد عوامة 12038)
ترقیم عوامۃ: 12039 ترقیم الشثری: -- 12279
١٢٢٧٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: كان الحسن بن علي (جالسا) (١) (فمر) (٢) عليه بجنازة [فقام الناس حين طلعت الجنازة، فقال الحسن بن علي: إنما (مر) (٣) على النبي ﷺ بجنازة] (٤) يهودي (وكان) (٥) رسول الله ﷺ على طريقها جالسا فكره ان يعلو راسه جنازة (يهودي) (٦) فقام (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (جالس).
(٢) في [أ، ب]: (مر).
(٣) في [هـ]: (أمر).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب، ص]: (فكان).
(٦) في [ص]: (يهودية).
(٧) صحيح، أخرجه النسائي (٤/ ٤٧) والبيهقي في معرفة السنن (٢١٢٦).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل ، عن جعفر ، عن ابيه ، قال: كان الحسن بن علي جالسا فمر عليه بجنازة , فقام الناس حين طلعت الجنازة، فقال الحسن بن علي :" إنما مر على النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة يهودي , وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم على طريقها جالسا، فكره ان يعلو راسه جنازة يهودي فقام".
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس سے جنازہ گزرا، جب جنازہ ان کے پاس سے گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے راستہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12279]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12279، ترقيم محمد عوامة 12039)
ترقیم عوامۃ: 12040 ترقیم الشثری: -- 12280
١٢٢٨٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن ابي ليلى ان (قيس بن سعد) (١) وسهل بن حنيف كانا بالقادسية فمرت بهما جنازة، فقاما فقيل لهما: إنها من اهل الارض فقالا: إن رسول الله ﷺ مرت به جنازة فقام ⦗١٧٢⦘ فقيل له: إنه يهودي فقال:"اليست نفسا" (٢)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (سعد بن قيس).
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (١٣١٢) ومسلم (٩٦١).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا غندر ، عن شعبة ، عن عمرو بن مرة ، عن ابن ابي ليلى ، ان قيس بن سعد ، وسهل بن حنيف ، كانا بالقادسية، فمرت بهما جنازة فقاما، فقيل لهما إنها من اهل الارض، فقالا: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم " مرت به جنازة فقام"، فقيل له: إنه يهودي، فقال:" اليست نفسا"
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد اور حضرت سھل بن حنیف قادسیہ میں تھے کہ آپ کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ دونوں حضرات کھڑے ہوگئے، آپ سے عرض کیا گیا یہ اہل ارض میں سے ہے (مسلمان نہیں ہے) تو انہوں نے فرمایا ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ کو کہا گیا یہ تو یہودی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ انسان نہیں ہے؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12280]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12280، ترقيم محمد عوامة 12040)