صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب مَا يُقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ:
باب: جمعہ کی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 877 ترقیم شاملہ: -- 2026
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ " فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ، فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 "، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: " إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ "، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".
سلیمان جو ہلال (تمیمی) کے بیٹے ہیں، انہوں نے جعفر (صادق) سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابورافع (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے عبیداللہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعے کی نماز پڑھائی اور (پہلی رکعت میں) سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں ”إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ“ پڑھی اور کہا: جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعے کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں ان کے پاس جا پہنچا اور ان سے کہا: آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعے کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2026]
ابورافع کے بیتے بیان کرتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین یا قائم مقام مقرر کیا اور خود مکہ چلا گیا۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھنے کے بعد دوسری رکعت میں ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ پڑھی۔ جب ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں انہیں ملا اور ان سے کہا: آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو علی ابن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2026]
ترقیم فوادعبدالباقی: 877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 877 ترقیم شاملہ: -- 2027
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ حَاتِمٍ: فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1 وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
حاتم بن اسماعیل اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے (اپنی اپنی سند کے ساتھ) جعفر سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: مروان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا۔۔۔ آگے اسی کے مانند ہے، سوائے اس کے کہ حاتم کی روایت (ان الفاظ) میں ہے: انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں ”إِذَا جَاءَکَ الْمُنَافِقُونَ“۔ عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی (سابقہ) روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2027]
حضرت عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ مروان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قائم مقام گورنر بنایا۔۔۔آگے مذکورہ بالا روایت ہے اتنا فرق ہے کہ حاتم کی روایت میں ہے انھوں نے پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ عبدالعزیز کی روایت سلیمان بن بلال کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2027]
ترقیم فوادعبدالباقی: 877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2028
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق ، جميعا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، قَالَ: وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ ".
جریر نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام حبیب بن سالم سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعے میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی“ اور ”هَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ“ پڑھتے۔ کہا: اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپ یہی دو سورتیں دونوں نمازوں میں پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2028]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے اور اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن اکھٹے ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں میں ہی انہیں پڑھتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2029
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے اسی سند کے ساتھ (اسی کے مانند) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2029]
یہی روایت امام صاحب نے ایک دوسری سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 878 ترقیم شاملہ: -- 2030
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ " أَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ " فَقَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ ".
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا: ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ (اور) کون سی سورت پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”هَلْ أَتَاکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ“ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2030]
ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ کون سی سورت پڑھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا: ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة