صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب تَرْكِ الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى:
باب: عیدگاہ میں نماز عید سے پہلے اور بعد نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2057
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا ".
معاذ عنبری نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی سے روایت کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اور دو رکعتیں پڑھائیں، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر عورتوں کے پاس آئے جبکہ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالیاں (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالتی تھی اور کوئی اپنا (لونگ وغیرہ کا خوشبودار) ہار ڈالتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2057]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اور دو رکعت پڑھائی، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر عورتوں کے پاس آئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتھ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، اور عورتوں کو صدقے کا حکم دیا عورتیں اپنی بالیاں، چھلے اور ہار (بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2058
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، جميعا، عَنْ غُنْدَرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
محمد بن ادریس اور غندر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اس (مذکورہ بالا حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2058]
مصنف صاحب نے یہی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة