صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَالْمَيِّتِ:
باب: مریض اور میت کے پاس کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 919 ترقیم شاملہ: -- 2129
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض یا مرنے والے کے پاس جاؤ تو بھلائی کی بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ابوسلمہ وفات پا گئے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم (یہ کلمات) کہو: ’اے اللہ! مجھے اور اس کو معاف فرما اور اس کے بعد مجھے اس کا بہترین بدل عطا فرما۔‘“ کہا: میں نے (یہ کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد وہ دے دیا جو میرے لیے ان سے بہتر ہے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2129]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار یا مرنے والے کے پاس حاضر ہو تو اچھی اور بہتر بات کہو کیونکہ جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو سلمہ وفات پا گئے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» ”اے اللہ! مجھے اور اسے معاف فرما دے اور مجھے اس کے عوض اس سے بہتر عطا فرما۔““ تو میں نے یہ دعائیہ کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بدل ایسی شخصیت عطا فرمائی، جو میرے لیے ان سے بہتر ہے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2129]
ترقیم فوادعبدالباقی: 919
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة