صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
35. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لأَهْلِهَا:
باب: قبر میں داخل کرتے وقت کیا کہنا چاہئیے اور قبر والوں کے لئے دعا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 974 ترقیم شاملہ: -- 2255
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ، غَدًا مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ "، وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ: وَأَتَاكُمْ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی۔۔۔ اسماعیل بن جعفر نے شریک سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا:۔۔۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع (کے قبرستان میں) تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے! تم پر اللہ کی سلامتی ہو، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا، وہ تم تک پہنچ گیا۔ تم کو (قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد (میں رہنے) والوں کو بخش دے۔“ قتیبہ نے (اپنی روایت) میں «وآتاكم» (تم تک پہنچ گیا) نہیں کہا۔۔۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2255]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا (عائشہ رضی اللہ عنہا نے): ”جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے ہاں ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصہ میں بقیع (اہل مدینہ کا قبرستان) تشریف لے جاتے اور فرماتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ» ”اے مومنو کے گھر کے باسیو! تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی نازل ہو۔ جس کا تم سے وعدہ تھا آچکا، کل تک تمہیں مہلت ہے، اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! بقیع غرقد والوں کو معاف فرما۔““ اور قتیبہ کی روایت میں «أَتَاكُمْ» کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 974
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 974 ترقیم شاملہ: -- 2256
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، فَقَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي؟، قُلْنَا: بَلَى. ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي؟، قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ، فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ: مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً؟" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ، قَالَ:" لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي، قُلْتُ: نَعَمْ فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ: أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ"، قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ، وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا والمُستَأخِرينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ".
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث سنائی اور کہا: ابن جریج نے عبداللہ بن کثیر بن مطلب سے روایت کی، انہوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب (المطلبی) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہی تھیں، انہوں نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔۔۔ اور حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، کہا: قریش کے ایک فرد عبداللہ نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کی کہ ایک دن انہوں نے کہا: ”کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ کہا: ہم نے سمجھا کہ ان کی مراد اپنی اس ماں سے ہے جس نے انہیں جنم دیا (لیکن انہوں نے) کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنی طرف سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں! کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: (ایک دفعہ) جب میری (باری کی) رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے، آپ (مسجد سے) لوٹے، اپنی چادر (سرہانے) رکھی، اپنے دونوں جوتے اتار کر اپنے دونوں پاؤں کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھایا، پھر لیٹ گئے۔ آپ نے صرف اتنی دیر انتظار کیا کہ آپ نے خیال کیا میں سو گئی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا، نکلے، پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ (یہ دیکھ کر) میں نے بھی اپنی قمیص سر سے گزاری (جلدی سے پہنی)، اپنا دوپٹا اوڑھا اور اپنی آزار (کمر پر) باندھی، پھر آپ کے پیچھے چل پڑی حتیٰ کہ آپ بقیع (کے قبرستان میں) پہنچے اور کھڑے ہو گئے اور آپ لمبی دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے، پھر آپ پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی، آپ تیز ہو گئے تو میں بھی تیز ہو گئی، آپ تیز تر ہو گئے تو میں بھی تیز تر ہو گئی۔ آپ دوڑ کر چلے تو میں نے بھی دوڑنا شروع کر دیا۔ میں آپ سے آگے نکل آئی اور گھر میں داخل ہو گئی۔ جونہی میں لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہو گئے اور فرمایا: ”عائشہ! تمہیں کیا ہوا، کانپ رہی ہو؟ سانس چڑھی ہوئی ہے۔“ میں نے کہا: کوئی بات نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے بتاؤ گی یا پھر وہ مجھے بتائے گا جو لطیف وخبیر ہے (باریک بین ہے اور انتہائی باخبر) ہے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! اور میں نے (پوری بات) آپ کو بتا دی۔ آپ نے فرمایا: ”تو وہ سیاہ (ہیولا) جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا، تم تھیں؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے میرے سینے کو زور سے دھکیلا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ تم پر زیادتی کرے گا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا تھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے (آکر) مجھے آواز دی اور اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھا، میں نے ان کو جواب دیا تو میں نے بھی تم سے اس کو مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس اندر نہیں آسکتے تھے، تم کپڑے اتار چکیں تھیں اور میں نے خیال کیا کہ تم سو چکی ہو تو میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ تم (اکیلی) وحشت محسوس کرو گی۔ تو انہوں (جبرئیل علیہ السلام) نے کہا: آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟“ آپ نے فرمایا: ”تم کہو: ’مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان ٹھکانوں میں رہنے والوں پر سلامتی ہو، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے، اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔‘“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2256]
محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب نے ایک دن ساتھیوں سے کہا: ”کیا میں تمہیں اپنے اور اپنی ماں کے بارے میں بات نہ بتاؤں؟“ ساتھیوں نے خیال کیا کہ وہ اپنی ماں مراد لے رہا ہے جس نے اسے جنا ہے، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں! تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب میری وہ رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر لوٹے (مسجد سے گھر آئے)، اپنی چادر (چارپائی پر) رکھی، اپنے جوتے اتار کر اپنے پاؤں (پائینتی) کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنی دیر ٹھہرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا کہ میں سو گئی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستگی سے (تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں) اپنی چادر اٹھائی، آہستگی سے اپنا جوتا پہنا اور دروازہ کھول کر نکلے اور اسے آہستگی سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اپنی قمیص گلے میں ڈالی، اپنی اوڑھنی کو دوپٹہ بنایا اور اپنا تہبند باندھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل نکلی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (قبرستان) پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک کھڑے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوئے تو میں بھی تیز ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ لگائی تو میں بھی دوڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیز دوڑنا شروع کیا تو میں بھی تیز دوڑنے لگی، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آگئی اور گھر میں داخل ہو کر لیٹ گئی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا کہ تمہارا سانس پھولا ہوا ہے اور پیٹ ابھرا ہوا ہے؟“ میں نے کہا: کوئی بات نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے بتاؤ گی یا مجھے باریک بین اور باخبر (اللہ تعالیٰ) بتا دے گا؟“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! اور میں نے صورتِ حال بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ شخص جو مجھے اپنے آگے نظر آ رہا تھا، تم تھیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو زور سے دھکا دیا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے یہ خیال کیا کہ تم پر اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادتی کریں گے (کہ تمہاری باری میں کسی اور کے پاس چلے جائیں گے)؟“ میں نے (دل میں) کہا: لوگ کتنا ہی چھپائیں اللہ اسے جانتا ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیتا ہے) خود ہی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاں کہا (اور اپنے گمان کی تصدیق کی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے دیکھا، اس وقت میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے آواز دی اور اپنی آواز تم سے مخفی رکھی، میں نے تم سے پوشیدہ رکھ کر ان کو جواب دیا، اور وہ اندر تمہارے پاس نہیں آ سکتے تھے کیونکہ تم کپڑے اتار چکی تھیں اور میں نے خیال کیا کہ تم سو چکی ہو تو میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہوا کہ تم (اگر جاگ گئیں تو اکیلی) وحشت محسوس کرو گی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ کے رب کا حکم ہے کہ اہل بقیع کے پاس جا کر ان کے لیے بخشش کی دعا کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں ان کے حق میں کیسے دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ» ”سلام ہو تم پر اے گھروں والو! مومنوں میں سے اور مسلمانوں میں سے، اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے اور بعد میں آنے والوں پر رحم فرمائے اور ہم، اگر اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2256]
ترقیم فوادعبدالباقی: 974
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 975 ترقیم شاملہ: -- 2257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: - فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں محمد بن عبداللہ اسدی نے سفیان سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد (بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب وہ قبرستان جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تعلیم دیا کرتے تھے تو (سیکھنے کے بعد) ان کا کہنے والا کہتا: ابوبکر کی روایت میں ہے: ”سلامتی ہو مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانوں میں رہنے والوں پر“ اور زہیر کی روایت میں ہے: ”مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانے میں رہنے والو، تم پر۔۔۔ اور ہم ان شاء اللہ ضرور (تمہارے ساتھ) ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2257]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو اس طرح جا کر کہیں، ابوبکر کی روایت ہے: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ» ”اے گھر والو! سلام ہو۔“ اور زہیر کی روایت ہے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» ”اے گھر والو تم پر سلام! مومنوں میں سے اور مسلمانوں میں سے اور ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت (سکھ، چین اور سکون) کا سوال کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2257]
ترقیم فوادعبدالباقی: 975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة