مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
124. في الرجل يفجر بالمرأة ثم (يتزوجها)، من رخص فيه
ایک آدمی کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد اس سے شادی کرسکتا ہے
ترقیم عوامۃ: 17045 ترقیم الشثری: -- 17619
١٧٦١٩ - حدثنا ابن عيينة عن (عبيد الله) (١) بن ابي يزيد عن ابيه ان سباع بن ثابت تزوج ابنة رباح بن وهب وله ابن من غيرها ولها ابنة من غيره ففجر الغلام بالجارية فظهر بالجارية حمل فرفعا إلى عمر بن الخطاب فاعترفا فجلدهما و [حرص] (٢) ان يجمع بينهما فابى الغلام (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، س، هـ]: (حرض)؛ وانظر: مسند الشافعي ١/ ٢٩٠، وسنن سعيد ١/ ٨٨٥، وسنن البيهقي ٧/ ١٥٥، والمحلى ١٠/ ٢٨.
(٣) صحيح.
حدثنا حدثنا ابن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، ان " سباع بن ثابت، تزوج ابنة رباح بن وهب، وله ابن من غيرها، ولها ابنة من غيره، ففجر الغلام بالجارية فظهر بالجارية حمل، فرفعا إلى عمر بن الخطاب فاعترفا فجلدهما وحرض ان يجمع بينهما فابى الغلام"
حضرت ابو یزید کہتے ہیں کہ سباع بن ثابت نے رباح بن وہب کی بیٹی سے شادی کی۔ سباع کا کسی اور عورت سے ایک بیٹا تھا اور بنت رباح کی کسی اور خاوند سے ایک بیٹی تھی۔ اس لڑکے نے لڑکی سے زنا کیا اور لڑکی کو حمل ٹھہر گیا۔ یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو ان دونوں نے گناہ کا اعتراف کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے لگوائے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان دونوں کا نکاح کردیا جائے لیکن اس لڑکے نے انکار کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17619]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17619، ترقيم محمد عوامة 17045)
ترقیم عوامۃ: 17046 ترقیم الشثری: -- 17620
١٧٦٢٠ - حدثنا خلف بن خليفة عن ابي هاشم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في رجل وامراة اصاب كل واحد منهما من الآخر حدا ثم اراد ان يتزوجها، قال: لا باس! اوله سفاح وآخره نكاح (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ خلف صدوق.
حدثنا حدثنا خلف بن خليفة، عن ابي هاشم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ، في " رجل وامراة اصاب كل واحد منهما من الآخر حدا ثم اراد ان يتزوجها , قال: لا باس , اوله سفاح وآخره نكاح".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی مرد وعورت باہم مبتلائے برائی ہوں اور ان پر حد بھی جاری ہو اور وہ شخص اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17620، ترقيم محمد عوامة 17046)
ترقیم عوامۃ: 17047 ترقیم الشثری: -- 17621
١٧٦٢١ - حدثنا وكيع (عن إسماعيل) (١) عن الشعبي قال: اوله سفاح وآخره نكاح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في: [س].
حدثنا وكيع، عن إسماعيل، عن الشعبي، قال:" اوله سفاح وآخره نكاح"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی سے ہوئی اور انتہاء نکاح پر ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17621]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17621، ترقيم محمد عوامة 17047)
ترقیم عوامۃ: 17048 ترقیم الشثری: -- 17622
١٧٦٢٢ - حدثنا وكيع (١) عن (ابي) (٢) (جناب) (٣) عن (بكير بن الاخنس) (٤) عن ابيه قال: قرات من الليل: ﴿حم (١) عسق﴾ فمررت بهذه الآية ﴿وهو الذي يقبل التوبة (عن) (٥) عباده ويعفو عن السيئات ويعلم ما (تفعلون) (٦) ﴾، فغدوت إلى عبد الله اساله عنها فاتاه رجل فساله عن الرجل يفجر بالمراة ثم يتزوجها فقرا عبد الله: ﴿ (و) (٧) هو الذي يقبل التوبة عن (عباده) (٨) ويعفو عن السيئات ويعلم ما تفعلون﴾ (٩) [الشورى: ١ - ٢، ٢٥] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (عن إسماعيل عن الشعبي).
(٢) في [س، ط، هـ]: (ابن).
(٣) في [س، ط، هـ]: (حباب).
(٤) في [س]: (بكر بن أمس).
(٥) في [س]: (من).
(٦) في [أ، ب]: (يفعلون).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط من: [س].
(٩) مجهول؛ لجهالة الأخنس.
حدثنا حدثنا وكيع، عن ابي جناب، عن بكير بن الاخنس، عن ابيه، قال: قرات من الليل: حم عسق فمررت بهذه الآية: وهو الذي يقبل التوبة عن عباده ويعفو عن السيئات ويعلم ما تفعلون سورة الشورى آية 25 فغدوت إلى عبد الله اساله عنها، فاتاه رجل، فساله عن" الرجل يفجر بالمراة ثم يتزوجها، فقرا عبد الله: وهو الذي يقبل التوبة عن عباده ويعفو عن السيئات سورة الشورى آية 25"
حضرت اخنس فرماتے ہیں کہ ایک رات میں { حم عسق } سورت پڑھ رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا: وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ اس آیت نے میرے دل پر بہت اثر کیا، میں صبح اس بارے میں سوال کرنے کے لئے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے پھر اس سے شادی کرلے تو یہ کیسا ہے؟ اس پر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:: ”وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17622]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17622، ترقيم محمد عوامة 17048)
ترقیم عوامۃ: 17049 ترقیم الشثری: -- 17623
١٧٦٢٣ - حدثنا وكيع عن شريك عن عروة (بن) (١) (عبد الله) (٢) بن (قشير) (٣) عن ابي الاشعث عن ابن عمر قال: اوله سفاح وآخره نكاح واوله حرام وآخره حلال (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط، ك، هـ]: (عن).
(٢) في [ز، ك]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [س، هـ]: (بشير).
(٤) حسن؛ شريك صدوق.
حدثنا حدثنا وكيع، عن شريك، عن عروة، بن عبد الله بن قشير، عن ابي الاشعث، عن ابن عمر ، قال: " اوله سفاح وآخره نكاح واوله حرام وآخره حلال"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس معاملے کی ابتداء برائی اور انتہاء نکاح ہے یا یہ فرمایا کہ اس کی ابتداء حرام اور انتہاء حلال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17623]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17623، ترقيم محمد عوامة 17049)
ترقیم عوامۃ: 17050 ترقیم الشثری: -- 17624
١٧٦٢٤ - حدثنا حفص عن اشعث عن الزهري ان رجلا فجر بامراة وهما بكران فجلدهما ابو بكر ونفاهما ثم (زوجها) (١) إياه بعد الحول (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (زوجهما).
(٢) منقطع، الزهري لم يدرك أبا بكر.
حدثنا حدثنا حفص، عن اشعث، عن الزهري، ان " رجلا فجر بامراة وهما بكران، فجلدهما ابو بكر ونفاهما، ثم زوجها إياه بعد الحول".
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ دو غیر شادی شدہ مرد وعورت نے زنا کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا پھر ایک سال بعد ان دونوں کا نکاح کرادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17624، ترقيم محمد عوامة 17050)
ترقیم عوامۃ: 17051 ترقیم الشثری: -- 17625
١٧٦٢٥ - حدثنا وكيع عن (هشام) (١) عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: لا باس ان يتزوجها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك، ز]: زيادة (عن هشام)، وفي [أ، ب، جـ، س، هـ]: (سفيان).
حدثنا وكيع، عن هشام، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، قال:" لا باس ان يتزوجها"
حضرت سعید بن مسیب اس نکاح میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17625]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17625، ترقيم محمد عوامة 17051)
ترقیم عوامۃ: 17052 ترقیم الشثری: -- 17626
١٧٦٢٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: ساله رجل عن (رجل فجر بامراة) (١) ، (ايتزوجها) (٢) ؟ قال: نعم! وتلا هذه الآية: ﴿ (و) (٣) هو الذي يقبل التوبة عن عباده (ويعفو عن السيئات) (٤) ﴾.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: سقط (فجر بامرأة).
(٢) في [ب]: (يتزوجها).
(٣) سقط من: [س].
(٤) زيادة من [ز، ك].
حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، قال: ساله رجل عن " رجل فجر بامراة , ايتزوجها؟ قال: نعم , وتلا هذه الآية: وهو الذي يقبل التوبة عن عباده سورة الشورى آية 25
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت علقمہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں، پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی:: ”وہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی لغزشات کو معاف کرتا ہے“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17626]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17626، ترقيم محمد عوامة 17052)
ترقیم عوامۃ: 17053 ترقیم الشثری: -- 17627
١٧٦٢٧ - حدثنا جرير عن (شيبة) (١) ابي نعامة قال: سئل سعيد بن جبير وانا اسمع عن رجل فجر بامراة، ايتزوجها؟ قال: (٢) اوله سفاح وآخره نكاح (احلها) (٣) له ماله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، هـ]: (شعبة عن)، وفي [جـ، ز، ك]: سقط (عن)، وفي [ز]: (شيبة).
(٢) في [أ، ب، ص، ط، هـ]: زيادة (هو أحق بها).
(٣) سقط من [ز].
حدثنا جرير، عن شيبة، ابي نعامة، قال: سئل سعيد بن جبير، وانا اسمع، عن " رجل فجر بامراة , ايتزوجها؟ قال: هو احق بها , اوله سفاح وآخره نكاح، احلها له ماله"
حضرت شیبہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا اس معاملے کی ابتداء برائی اور انتہاء نکاح ہے اور مال نے اس عورت کو مرد کے لئے حلال کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17627، ترقيم محمد عوامة 17053)
ترقیم عوامۃ: 17054 ترقیم الشثری: -- 17628
١٧٦٢٨ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن (زيد) (١) قال: سئل عن الرجل يفجر بالمراة ثم يتزوجها، قال: هو احق بها، هو افسدها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (يزيد).
حدثنا ابن عيينة، عن عمرو، عن جابر بن زيد، قال: سئل عن " الرجل يفجر بالمراة ثم يتزوجها , قال: هو احق بها , هو افسدها"
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت جابر بن زید سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور پھر اس سے شادی کرلے تو ایسا کرنا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ اس عورت کا زیادہ حق دار ہے کیونکہ اسی نے اسے خراب کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17628، ترقيم محمد عوامة 17054)