🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. باب مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلاَهُ:
باب: غلام کا اپنے مالک کے مال سے خرچ کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1025 ترقیم شاملہ: -- 2368
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: " نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ ".
محمد بن زید نے آبی اللحم (غفاری) رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غلام تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور اجر تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا (برابر برابر) ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2368]
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت ہے کہ میں غلام تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دے سکتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اجر تمھیں آدھا آدھا ملے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1025
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1025 ترقیم شاملہ: -- 2369
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لِمَ ضَرَبْتَهُ "، فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا ".
یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کر کے خشک کرنے کا حکم دیا، میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو انہوں نے مجھے مارا۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا؟ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا کھانا (دوسروں کو) دیتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا۔ (تم دونوں کو ملے گا) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2369]
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے آقا نے گوشت کے لمبے لمبے ٹکڑے بنانے کا حکم دیا میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے اسے کچھ کھانے کے لیے دے دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا تو اس نے مجھے مارا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا: تو نے اسے کیوں مارا ہے۔ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا طعام دے دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجر تم دونوں کو ملے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1025
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1026 ترقیم شاملہ: -- 2370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں (نفلی) روزہ نہ رکھے مگر جب اس کی اجازت ہو اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں (اپنے کسی محرم کو بھی) اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے اور اس (عورت) نے اس کے حکم کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کیا تو یقیناً اس کا آدھا اجر اس (خاوند) کے لئے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2370]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے خاوند کی موجود گی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں (اپنے کسی محرم کو) اس کی اجازت کے بغیر گھر نہ آنے دے اور اس کی (صریح) اجازت کے بغیر اس کی کمائی سے جو کچھ خرچ کرے گی تو اس کا آدھا اجر خاوند کو ملے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1026
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں