🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. من قال: الحرام يمين وليست بطلاق
اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کو کہا کہ تومجھ پر حرام ہے تو جن حضرات کے نزدیک یہ طلاق نہیں قسم ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18505 ترقیم الشثری: -- 19198
١٩١٩٨ - [حدثنا ابو بكر قال: نا الثقفي عن برد عن (مكحول) (١) (وسليمان) (٢) ابن (يسار) (٣) قالا: (الحرام) (٤) يمين] (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (كمحول).
(٢) في [أ، ب]: (سلمان).
(٣) في [س]: (يسارة).
(٤) في [ب، س]: (الحرم).
(٥) سقط الخبر من: [ز].

حدثنا ابو بكر، قال: نا الثقفي، عن برد، عن مكحول، وسليمان بن يسار، قالا: " الحرام يمين".
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم کے حکم میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19198]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19198، ترقيم محمد عوامة 18505)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18506 ترقیم الشثری: -- 19199
١٩١٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: ما ابالي حرمتها او حرمت (جفنة) (١) من ثريد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (حفنة).
حدثنا ابو بكر، قال: نا علي بن مسهر، عن إسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، قال:" ما ابالي حرمتها , او حرمت جفنة من ثريد"
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک عورت کو حرام کرنا اور ثرید کے پیالے کو حرام کرنا ایک جیسا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19199]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19199، ترقيم محمد عوامة 18506)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18507 ترقیم الشثری: -- 19200
١٩٢٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن جويبر عن الضحاك ان ابا بكر وابن مسعود قالوا: من قال لامراته: هي علي حرام فليست عليه بحرام وعليه كفارة يمين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع ضعيف جدًا؛ جويبر متروك، والضحاك لا يروي عن أبي بكر.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحيم بن سليمان، عن جويبر، عن الضحاك، ان ابا بكر ، وعمر ، وابن مسعود ، قالوا: " من قال لامراته: هي علي حرام ؛ فليست عليه بحرام , وعليه كفارة يمين"
حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ م فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو میرے لئے حرام ہے تو وہ حرام نہیں ہوگی، اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19200]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19200، ترقيم محمد عوامة 18507)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18508 ترقیم الشثری: -- 19201
١٩٢٠١ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن إسماعيل عن الشعبي قال: إذا قال الرجل لامراته: انت علي حرام فليس بشيء.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبدة بن سليمان، عن إسماعيل، عن الشعبي، قال: " إذا قال الرجل لامراته: انت علي حرام ؛ فليس بشيء"
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو یہ کوئی چیز نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19201، ترقيم محمد عوامة 18508)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18509 ترقیم الشثری: -- 19202
١٩٢٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا يعلى (عن) (١) إسماعيل قال: قال عامر: زعم اناس ان عليا كان يجعلها عليه حراما حتى تنكح زوجا غيره والله ما قالها علي قط (ولانا) (٢) اعلم بها من الذي قالها؟ إنما قال: ما انا بمحلها (٣) ولا بمحرمها عليه (إن شاء فليتقدم) (٤) وإن شاء فليتاخر (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بن).
(٢) في [س، هـ]: (ولا أنا).
(٣) في [ك]: زيادة (له).
(٤) تكرر في: [ط].
(٥) منقطع؛ عامر لا يروي عن علي.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا يعلى بن إسماعيل، قال: قال عامر: زعم اناس ان عليا كان يجعلها عليه حراما حتى تنكح زوجا غيره , والله ما قالها علي قط، ولانا اعلم بها من الذي قالها! إنما قال:" ما انا بمحلها ولا بمحرمها عليه، إن شاء فليتقدم , وإن شاء فليتاخر"
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسلک یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے لئے حرام کہہ دے تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ خدا کی قسم! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا اور نہ میں کسی ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اس کا قائل تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں نہ تو اسے حلال قرار دیتا ہوں اور نہ حرام، اگر وہ چاہے تو تقدم کرلے اور اگر چاہے توتأخر کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19202]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19202، ترقيم محمد عوامة 18509)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18510 ترقیم الشثری: -- 19203
١٩٢٠٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن خصيف عن سعيد بن جبير في الرجل يقول لامراته: انت علي حرام قال: يعتق رقبة وإن قال ذلك لاربع فاربع رقاب.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد السلام بن حرب، عن خصيف، عن سعيد بن جبير، في الرجل يقول لامراته: انت علي حرام؟ قال:" يعتق رقبة , وإن قال ذلك لاربع ؛ فاربع رقاب"
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو ایک غلام آزاد کرے اور اگر یہ بات چار بیویوں سے کہی تو چار غلام آزاد کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19203]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19203، ترقيم محمد عوامة 18510)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں