صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
46. باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ:
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
ترقیم عبدالباقی: 1061 ترقیم شاملہ: -- 2446
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ، فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي، وَيَقُولُونَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَلَا تُجِيبُونِي "، فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا، وَكَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَذَا وَكَذَا لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا " زَعَمَ عَمْرٌ وَأَنْ لَا يَحْفَظُهَا، فَقَالَ: " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ".
عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصود تھی ان کو (بہت زیادہ) عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لینا چاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی! اور تمہیں محتاج و ضرورت مند نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں غنی کر دیا! کیا تمہیں منتشر نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں متحد کر دیا!“ ان سب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب نہیں دو گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی، اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو ایسا تھا ایسا تھا اور معاملہ ایسے ہوا، ایسے ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی) عمرو (بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انہیں یاد نہیں رکھ سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟ انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں (شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں) اور اگر ہجرت (کا فرق) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا، بلاشبہ تم میرے بعد (خود پر دوسروں کو) ترجیح ملتی پاؤ گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2446]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کر کے غنیمتیں تقسیم کیں تو جن کی تالیف قلب مقصود تھی ان کو خوب عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی دوسرے لوگوں کی طرح حصہ لینا چاہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر انہیں خطاب فرمایا۔ اللہ تعالی نہ حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”ا ے انصار! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا، اور اللہ نے میرے ذریعہ تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!؟ اور تم محتاج وضرورت مند تھے، اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمھیں غنی فرما دیا! کیا تم منتشر اور باہمی دشمن نہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمھیں متحد اور یکجا کر دیا!“ اور وہ کہہ رہے تھے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ا سسے بھی بڑھ کر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟“ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم احسان کا احسان بہت زیادہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو ایسے تھا، ایسے تھا، ایسے ہوا، ایسےہوا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں، عمرو (بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ؟ انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں اور اگر ہجرت معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد شمار ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا، تم میرے بعد ترجیح کا معاملہ پاؤ گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر ملو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1061
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1062 ترقیم شاملہ: -- 2447
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ، ثُمَّ قَالَ: " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا جَرَمَ، لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا.
منصور نے ابووائل (شقیق) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (مال غنیمت کی) تقسیم میں ترجیح دی۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے، عینیہ کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن (مال غنیمت کی) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کہا: میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں (اس بات سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی۔ (غصے سے) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے! انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے دل میں سوچا آئندہ کبھی (اس قسم کی) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2447]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو غنیمت کی تقسیم میں ترجیح دی، اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے عیینہ کو بھی اتنے ہی اونٹ دیے اور دوسرے عرب سرداروں کو بھی دیے، اس طرح اس دن تقسیم غنیمت میں ان کو ترجیح دی تو ایک آدمی کہنے لگا۔ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل و انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ملحوظ نہیں رکھا گیا تو میں نے دل میں کہا اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا تو میں آپ کی خدمت میں حاضرہوا اور اس کی بات کی آپ کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل کر سرخ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر عدل کون کرے گا؟) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ موسی علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی۔ (ان کی قوم نے ان پر ہر قسم کے الزامات عائد کیے اور مخالفت کی) اور انھوں نے صبر سے کام لیا تو میں نے دل میں سوچا۔ آئندہ کبھی بھی میں آگے اس قسم کی بات نہیں بتاؤں گا۔ (آپ کو تکلیف و اذیت کی بات بتا کر آزردہ خاطر نہیں کروں گا) ”صِرف“ ایک قسم کا سرخ رنگ ہے جس سے چمڑا رنگا جاتا ہے۔ اور اس کا اطلاق خون پر بھی ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1062
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1062 ترقیم شاملہ: -- 2448
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ".
اعمش نے (ابووائل) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ (مال) تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتا دیا، اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی، کاش! یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا، کہا: پھر آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2448]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک دفعہ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا، اور چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی غصہ میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا حتی کہ میں نے خواہش کی کاش میں آپ کو یہ بات نہ بتاتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی اور انھوں نے صبر کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2448]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1062
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة