مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
173. من رخص للمطلقة أنه تعتد في غير بيتها
جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
ترقیم عوامۃ: 19172 ترقیم الشثری: -- 19926
١٩٩٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن ابيه ⦗٣٧٦⦘ قال: قالت فاطمة بنت قيس: (يا) (١) رسول الله! إني اخاف ان يقتحم علي (قال) (٢) فامرها ان تحول (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س] سقطت (يا)، وفي [ط]: (برسول).
(٢) في [س]: سقطت (قال)، وكذلك في [أ، ب، جـ].
(٣) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه الطبراني ٢٤/ (٩٠٨)، وابن عبد البر في التمهيد ١٩/ ١٥٠، وابن حزم في المحلى ١٠/ ٣٠٠، ورواه متصلًا من حديث فاطمة مسلم (١٤٨٢)، والنسائي ٦/ ٢٠٨، والبيهقي ٧/ ٤٣٣، كما رواه من حديث عائشة ابن ماجه (٢٠٣٣).
حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص بن غياث ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، قال: قالت فاطمة بنت قيس: يا رسول الله! إني اخاف ان يقتحم علي، قال:" فامرها ان تحول"
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے (طلاق کے بعد) حضور 5 سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس گھر میں میرے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19926]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19926، ترقيم محمد عوامة 19172)
ترقیم عوامۃ: 19173 ترقیم الشثری: -- 19927
١٩٩٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن علية (عن يونس) (١) عن الحسن في المطلقة ثلاثا: تعتد في غير بيتها إن شاءت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ].
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن علية عن يونس،، عن الحسن، في المطلقة ثلاثا" تعتد في غير بيتها إن شاءت".
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اگر وہ چاہے تو اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں بھی عدت گزار سکتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19927]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19927، ترقيم محمد عوامة 19173)
ترقیم عوامۃ: 19174 ترقیم الشثری: -- 19928
١٩٩٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن حبيب قال: سالت عطاء فقال: تعتد حيث شاءت.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الوهاب الثقفي، عن حبيب، قال: سالت عطاء؟، فقال:" تعتد حيث شاءت" ,
حضرت حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مطلقہ کی عدت کے مقام کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جہاں چاہے وہاں عدت گزار سکتی ہے۔ حضرت رضی اللہ عنہ حسن بھی یہی فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19928]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19928، ترقيم محمد عوامة 19174)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19929
١٩٩٢٩ - وقاله الحسن: ايضا.
وقاله الحسن ايضا
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19929، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 19175 ترقیم الشثری: -- 19930
١٩٩٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن بشر (قال: نا محمد بن عمرو) (١) قال: نا ابو سلمة عن فاطمة بنت قيس (قال) (٢) : (كتبت) (٣) ذلك من فيها كتابا، (قالت) (٤) : كنت عند رجل من بني مخزوم فطلقني البتة، فقال لي رسول الله ﷺ: ⦗٣٧٧⦘" (انتقلي) (٥) إلى (٦) ابن (ام) (٧) مكتوم فإنه رجل قد (ذهب) (٨) بصره، فإن وضعت شيئا لم ير شيئا" (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) في [ب]: (فأتت).
(٣) في [س]: (كتب).
(٤) في [س، ز، ك]: (قال).
(٥) في [ك]: (انتقل).
(٦) [جـ]: زيادة (بيت).
(٧) في [س]: سقطت (أم).
(٨) في [س]: (ذهبت).
(٩) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٨٠) [٣٩]، وأحمد (٢٧٣٢٧).
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن بشر ، قال: نا محمد بن عمرو ، قال: حدثنا ابو سلمة ، عن فاطمة بنت قيس ، قال: كتبت ذلك من فيها كتابا، قالت: كنت عند رجل من بني مخزوم فطلقني البتة , فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" انتقلي إلى بيت ابن ام مكتوم ؛ فإنه رجل قد ذهب بصره , فإن وضعت شيئا لم ير شيئا"
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے حتمی طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر چلی جاؤ۔ وہ نابینا آدمی ہیں۔ اگر تم ضرورت کے تحت اپنے کپڑے اتارو گی تو بھی وہ کچھ نہ دیکھ سکیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19930]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19930، ترقيم محمد عوامة 19175)