مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
227. ما قالوا في الرجل يقول لامرأته: (لأغيظنك)
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ میں ضرور بضرور تجھ پربہت زیادہ غصہ ڈھاؤں گا تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19471 ترقیم الشثری: -- 20259
٢٠٢٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن حماد قال: سمعته يقول: قلت لإبراهيم: ما الإيلاء؟ قال: [ان يحلف (لا) (١) يكلمها، ولا يجامعها، ولا يجمع راسه راسها] (٢) وليغيظنها [او ليسوءنها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س، ط]: (أن لا)، وفي [ز]: (ألا).
(٢) في [أ، ب، ك]: (أن تحلف: ألا تكلمها ولا تجمعها ولا يجمع رأسه رأسها)، وفي [أ]: (ولا تجمع).
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ایلاء کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ آدمی اس بات کی قسم کھالے کہ وہ بیوی سے بات نہیں کرے گا، اس سے جماع نہیں کرے گا، اس کا اور اس کی بیوی کا سر جمع نہیں ہوں گے۔ یا وہ اس پر ضرور بضرور بہت زیادہ غصہ ڈھائے گا یا وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20259]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20259، ترقيم محمد عوامة 19471)
ترقیم عوامۃ: 19472 ترقیم الشثری: -- 20260
٢٠٢٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن مبارك عن معمر عن خصيف عن الشعبي في رجل قال لامراته: والله لاسوءنك قال: إن كان يعني بذلك امراة يتزوجها، او جارية يتسراها فليس بشيء، وإن كان يعني الجماع فهو إيلاء.
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم میں تیرے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا، اگر اس جملے سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ کسی اور عور ت سے شادی کرے گا یا کسی باندی سے جماع کرے گا تو یہ کوئی چیز نہیں اور اگر مراد جماع نہ کرنے کی نیت تھی تو یہ ایلاء ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20260]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20260، ترقيم محمد عوامة 19472)
ترقیم عوامۃ: 19473 ترقیم الشثری: -- 20261
٢٠٢٦١ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو داود عن شعبة قال: سمعت الحكم يقول في الرجل قال لامراته: والله لاسوءنك، فتركها اربعة اشهر (قال) (١) : (هو) (٢) إيلاء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [هـ]: (فهو).
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم! میں تیرے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا اور پھر چا ر مہینے تک اسے چھوڑے رکھا تو یہ ایلاء ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20261]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20261، ترقيم محمد عوامة 19473)