مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
226. ما قالوا في الأولياء والأعمام: أيهم أحق بالولد؟
اولیاء اور چچوں میں سے بچے کا زیادہ حقدار کون ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19466 ترقیم الشثری: -- 20254
٢٠٢٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع بن الجراح عن موسى بن عبيدة عن محمد ابن كعب ان امراة من اهل البادية كانت عند رجل من بني عمها، (فمات) (١) عنها فتزوجها رجل من الانصار، فجاء بنو عم الجارية فقالوا: (ناخذ) (٢) ابنتنا، قالت: إني انشدكم الله ان تفرقوا بيني وبين ابنتي؛ فانا الحامل؛ وانا المرضع؛ وليس احد (اخير) (٣) (لقرب ابنتي) (٤) مني، (فابوا) (٥) ، (فقالت) (٦) : موعدكم رسول الله ﷺ ثم قال: خيرك رسول الله ﷺ فقولي: اختار الله والإيمان ودار المهاجرين والانصار فقال النبي:"والذي نفسي بيده! لا (تذهبون) (٧) بها (ما بقيت) (٨) عنقي في مكانها". وجاءوا إلى ابي بكر فقضى لهم بها فقال بلال: يا خليفة رسول الله، شهدت هؤلاء النفر وهذه المراة عند رسول الله ﷺ اختصموا، فقضى بها لامها، ⦗٤٦٢⦘ (فقال ابو بكر) (٩) : وانا والذي نفسي بيده! (لا يذهبون) (١٠) بها ما دامت عنقي في (مكانها) (١١) ، فدفعها إلى امها (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فغاب)، وفي [ز]: (فحاث).
(٢) في [خ]: (إنا آخذوا).
(٣) سقط من: [س، هـ].
(٤) في [س، هـ]: (أقرب لابنتي)، وفي [أ، ب]: (لا أقرب لابنتي).
(٥) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٦) في [هـ]: (فقال).
(٧) في [أ، ب]: (يذهبون).
(٨) في [أ]: (ما دامت).
(٩) سقط من: [أ].
(١٠) في [أ، ب، ط، ك]: (لا يذهبوا)، وفي [ز، ع]: (لا تذهبون).
(١١) في [ط]: (مكانكا).
(١٢) مرسل ضعيف؛ موسى بن عبيدة ضعيف، ومحمد بن كعب تابعي، وأخرجه إسحاق كما في المطالب العالية (١٦٨٣).
حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔ (اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی) اس کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے جائیں گے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان میں نہ آؤ۔ میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا۔ لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تو اس نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور فیصلہ کرالو۔ پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو، ایمان کو، مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کرلیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ (حضور 5 کے وصال کے بعد) پھر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، یہ عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کا فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میر ی جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے۔ پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20254]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20254، ترقيم محمد عوامة 19466)
ترقیم عوامۃ: 19467 ترقیم الشثری: -- 20255
٢٠٢٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا يعلى بن عبيد عن زكريا عن الشعبي في جارية ارادت امها ان تخرج بها من الكوفة فقال: عصبتها احق بها من امها إن خرجت.
حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک مقدمہ لایا گیا کہ ایک خاتون اپنی بیٹی کو کوفہ سے نکالنا چاہتی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر ماں بچی کو شہر سے نکالنا چاہتی ہے تو بچی کے عصبات اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20255]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20255، ترقيم محمد عوامة 19467)
ترقیم عوامۃ: 19468 ترقیم الشثری: -- 20256
٢٠٢٥٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا عباد بن العوام عن يونس بن (عبد الله) (١) بن ربيعة عن عمارة بن ربيعة الجرمي قال: غزا ابي نحو البحر في بعض تلك (المغازي) (٢) ، فقتل فجاء عمي ليذهب بي (فخاصمته) (٣) امي إلى علي قال: ومعي اخ لي صغير قال: فخيرني علي ثلاثا فاخترت امي فابى عمي ان يرضى فوكزه علي بيده وضربه بدرته وقال: وهذا ايضا (لو) (٤) قد بلغ (خير) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في المحلى (عبيد اللَّه) وهو خطأ، انظر: مسند الشافعي ١/ ٢٨٨، والأم ٥/ ٩٢، ومصنف عبد الرزاق (١٢٦٠٩)، وسنن البيهقي ٨/ ٤، وانظر: التاريخ الكبير ٨/ ٤٠٦، والثقات ٧/ ٦٤٩، وتعجيل المنفعة ١/ ٤٦١، والمعرفة ليعقوب ٣/ ١٩٢، وتاريخ الإسلام ٩/ ٦٧٣، والاستذكار ٧/ ٢٩١، وزاد المعاد ٥/ ٤٦٦.
(٢) في [ط]: (للغازي).
(٣) في [هـ]: (فخاضمته).
(٤) سقط من: [أ، س، هـ].
(٥) في [س، هـ]: (خيرًا).
حضرت عمارہ بن ربیعہ جرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد ایک سمندری غزوہ میں شہید ہوگئے۔ میرے چچا مجھے لینے کے لئے آگئے۔ میری والدہ اس مقدمہ کو لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ میرا چھوٹا بھائی بھی میرے ساتھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے تین مرتبہ اختیار دیا تو میں نے اپنی والدہ کو اختیار کیا۔ میرے چچا نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں مکا مارا اور انہیں اپنا کوڑا مارا اور فرمایا کہ یہ فیصلہ ہوچکا اور جب یہ بالغ ہوگا تو اسے اختیار دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20256]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20256، ترقيم محمد عوامة 19468)
ترقیم عوامۃ: 19469 ترقیم الشثری: -- 20257
٢٠٢٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن مغيرة قال: خير شريح غلاما وجارية يتيمين، فاختارت الجارية (مواليها) (١) ، واختار الغلام عمته فيما يحسب، فاجازه شريح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (موالها).
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے ایک یتیم لڑکے اور ایک یتیم لڑکی کو اختیار دیا۔ لڑکی نے اپنے موالی کو اور لڑکے نے اپنی پھوپھی کو اختیار کیا تو حضرت شریح نے اسے درست قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20257]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20257، ترقيم محمد عوامة 19469)
ترقیم عوامۃ: 19470 ترقیم الشثری: -- 20258
٢٠٢٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا (١) معاوية (بن) (٢) هشام قال: نا سفيان عن (عبد الله) (٣) بن ابي السفر عن الشعبي في رضاع الصبي قال: امه احق به ما كانت في (المصر) (٤) ، فإذا (ارادت) (٥) ان تخرج به إلى السواد فالاولياء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: زيادة (أبو).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [أ، ب، س، ط]: (عبيد اللَّه).
(٤) في [س]: (للمصر)، وفي [ط]: (المصير).
(٥) في [س]: سقطت.
حضرت شعبی رحمہ اللہ بچے کو دودھ پلانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس کی ماں اسی شہر میں ہو تو وہ زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ شہر کو چھوڑنا چاہے تو اولیاء اس انتظام کے زیادہ حقدار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20258]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20258، ترقيم محمد عوامة 19470)