مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
228. في الرجل يطلق أو يموت، وفي منزله متاع
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے یامر جائے اور اس کے گھر میں سامان ہوتوکیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19474 ترقیم الشثری: -- 20262
٢٠٢٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن ابن سيرين ان رجلا ادعى متاع البيت، (فجئن) (١) اربع نسوة إلى شريح، فشهدن قلن: (دفعنا إليه) (٢) الصداق، (وقلن) (٣) : (جهزها) (٤) ، فجهزها، فقضى عليه بالمتاع (٥) وقال: إن عقرها من مالك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فمجين).
(٢) في [هـ]: (ادفع إليهما).
(٣) في [أ، ب]: (وقلان).
(٤) في [أ، ب]: (فجهزها).
(٥) اعتبر المتاع من الصداق، والزوج قد دخل.
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے گھر کے سامان کا دعویٰ کیا، اس کی چاروں بیویاں حضرت شریح کے پاس آئیں اور انہوں نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسے مہر دے دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اس کا سامان خرید لے تو اس نے سامان خرید لیا تھا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے سامان کا فیصلہ آدمی کے خلاف کیا اور فرمایا کہ اس کا تاوان تیرے مال سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20262]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20262، ترقيم محمد عوامة 19474)
ترقیم عوامۃ: 19475 ترقیم الشثری: -- 20263
٢٠٢٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الوهاب (الثقفي) (١) عن ايوب قال: ⦗٤٦٥⦘ (كتبت) (٢) إلى ابي قلابة اساله عن الرجل يحدث البيت في متاع المراة (٣) ، لمن هو؟ قال: هو له ما لم يعطها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك].
(٢) في [س]: (كنت).
(٣) أي يبني بيت شعر أو خيمة في بيت الزوجية، وفي [ع]: زيادة (ثم يموت)، ولا محل لها.
حضرت ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ کے نام ایک خط لکھا جس میں ان سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے عورت کے سامان سے کمرہ تیار کیا پھر وہ مرگیا تو سامان کس کا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ مرد کا ہی ہوگا جب تک وہ عورت کو دے نہ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20263]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20263، ترقيم محمد عوامة 19475)
ترقیم عوامۃ: 19476 ترقیم الشثری: -- 20264
٢٠٢٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن اشعث عن الحسن قال: ما كان للرجال فهو للرجال، وما كان للنساء (فهو للنساء) (١) ، وما بقي فهو لمن اقام البينة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جھگڑے کی صورت میں جو چیزیں مردوں کی ہوتی ہیں وہ مردوں کی ہوں گی اور جو عورتوں کی ہوتی ہیں وہ عورتوں کی ہوں گی۔ اور باقی ماندہ اس کے لئے ہوگا جس نے گواہی قائم کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20264]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20264، ترقيم محمد عوامة 19476)
ترقیم عوامۃ: 19477 ترقیم الشثری: -- 20265
٢٠٢٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص (عن عبيدة) (١) عن إبراهيم قال: ما كان للرجال فهو للرجال، وما كان للنساء فهو للنساء، وما بقي (فهو) (٢) بينهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ، س].
(٢) في [جـ، ز، ك، هـ]: (فهو).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس چیزکاتعلق مردوں سے ہو وہ مردوں کے لئے ہے اور جس کا تعلق عورتوں سے ہو وہ عورتوں کو ملے گی اور جو باقی بچے وہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20265]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20265، ترقيم محمد عوامة 19477)
ترقیم عوامۃ: 19478 ترقیم الشثری: -- 20266
٢٠٢٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن ابن ابي عروبة عن قتادة عن الحسن في (التي) (١) يتوفى عنها زوجها، قال: (لها) (٢) ما (اغلقت) (٣) (عليه) (٤) (بابها) (٥) إلا ما كان من متاع الرجل: الطيلسان والقميص (ونحوه) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الذي).
(٢) في [أ]: (ما).
(٣) في [هـ]: (أعلقت).
(٤) في [أ، س، هـ]: (عامة).
(٥) في [ز، ك]: (ما بها)، وفي [ب]: (بالها)، وفي [هـ]: (مالها).
(٦) في [هـ]: (نحوه).
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کے لئے آدمی کے مال میں سے وہ چیز ہوگی جس سے اپنے دروازے پر پردہ ڈال سکے۔ جیسے چادر اور قمیص وغیرہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20266]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20266، ترقيم محمد عوامة 19478)
ترقیم عوامۃ: 19479 ترقیم الشثری: -- 20267
٢٠٢٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن حماد انه سئل عن متاع البيت فقال: ثياب المراة للمراة، وثياب الرجل للرجل، وما تشاجرا فلم يكن لهذا ولا لهذا (فهو) (١) للذي في يده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، ط]: (وهو).
حضرت حماد رحمہ اللہ سے گھر کے سامان کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ عورت کے کپڑے عورت کے لئے اور مرد کے کپڑے مرد کے لئے ہیں۔ اور جس چیز کے بارے میں ان کا جھگڑا ہوجائے وہ اس کا ہوگا جس کے قبضے میں ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20267]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20267، ترقيم محمد عوامة 19479)
ترقیم عوامۃ: 19480 ترقیم الشثری: -- 20268
٢٠٢٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن إسماعيل (بن سالم) (١) عن الشعبي انه سمعه يقول: إذا دخلت المراة على زوجها -ومعها حلي ومتاع- فمكثت عند زوجها حتى (تموت) (٢) فهو ميراث، وإن اقام اهلها البينة انه كان عارية عندها إلا ان يكونوا قد اعلموا ذلك الزوج في حياتها قبل موتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (يموت).
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت اپنے خاوند کے پاس آئے اور اس کے پاس زیورات اور سامان ہوں اور وہ اپنے خاوند کے پاس ٹھہرے۔ پھر اس کے خاوند کا انتقال ہوجائے تو یہ سب کچھ میراث ہوگا۔ خواہ عورت کے گھر والے اس بات پر گواہی بھی قائم کردیں کہ یہ اس کے پاس صرف استعمال کے لئے تھا۔ البتہ اگر وہ خاوند کی زندگی میں اس بات کو واضح کردیں تو ٹھیک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20268]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20268، ترقيم محمد عوامة 19480)
ترقیم عوامۃ: 19481 ترقیم الشثری: -- 20269
٢٠٢٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن يزيد بن ابي زياد قال: سمعت شيخا كان ادرك شريحا يذكر عن شريح انه قال في متاع البيت: (فما) (١) كان من سلاح او متاع الرجل فهو للرجل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فمن).
حضرت شریح رحمہ اللہ گھر کے سامان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہتھیار اور مردوں کا سامان مرد کے لئے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20269]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20269، ترقيم محمد عوامة 19481)
ترقیم عوامۃ: 19482 ترقیم الشثری: -- 20270
٢٠٢٧٠ - [حدثنا ابو بكر قال: نا يحيى بن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن الحكم قال: إذا مات الرجل] (٢) وترك متاعا (من متاع) (٣) (البيت) (٤) ، فما كان للرجل ⦗٤٦٧⦘ (لا) (٥) يكون للمراة، وما (كان) (٦) للمراة لا يكون للرجل، هو للمراة وما (كان) (٧) للرجال والنساء فهو للرجل إلا ان تقيم المراة البينة انه لها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عيينة)؛ وفي [ز]: (عتبة).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [أ، ب]: (للبيت).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (فلا)
(٦) في [س، هـ]: (يكون).
(٧) في [هـ]: (يكون)، وفي [ز، ك]: (كان يكون).
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص انتقال کرجائے اور گھر میں کچھ سامان چھوڑے تو مردوں والا سامان مرد کے لئے اور عورتوں والا سامان عورت کے لئے ہوگا۔ اور جو مردوں اور عورتوں کے درمیان مشترک ہوتا ہے وہ مرد کے لئے ہوگا۔ البتہ اگر عورت اس بات پر گواہی قائم کردے کہ یہ اس کا ہے تو پھر اسی کا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20270]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20270، ترقيم محمد عوامة 19482)