مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
280. ما قالوا في إحداد المرأة على زوجها؟
عورت کا اپنے خاوند کی وفات پر سوگ منانا
ترقیم عوامۃ: 19629 ترقیم الشثری: -- 20429
٢٠٤٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة ⦗٥١٥⦘ تبلغ به النبي ﷺ قال:"لا يحل لامراة (ان) (١) تحد على ميت فوق ثلاث إلا على (زوج) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: سقطت (أن).
(٢) في [س]: (زوجها).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٩١)، وأحمد (٢٤٠٩٢).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ نہیں مناسکتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20429]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20429، ترقيم محمد عوامة 19629)
ترقیم عوامۃ: 19630 ترقیم الشثری: -- 20430
٢٠٤٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن حميد ابن نافع انه سمع زينب بنت ام سلمة (تحدث) (١) انها سمعت ام سلمة وام حبيبة (تذكران) (٢) ان امراة اتت النبي ﷺ فذكرت ان ابنة لها توفي عنها زوجها، فاشتكت عينها فهي تريد ان تكحلها، فقال رسول الله ﷺ:"قد كانت (إحداكن) (٣) (ترمي) (٤) بالبعرة (على) (٥) راس الحول، وإنما هي اربعة اشهر وعشرا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، ك]: (يحدث).
(٢) في [أ، ب، س، ط]: (تحدث).
(٣) في [س، ط]: (إحديكن).
(٤) في [س]: (ترى).
(٥) في [هـ]: (عند).
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٣٨)، ومسلم (١٤٨٨).
حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ ما روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون حضور 5 کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ان کی ایک بیٹی کا خاوند انتقال کرگیا ہے۔ اس کی آنکھ میں تکلیف ہے اور وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک سال پورے ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی، اب تو عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت حمید رضی اللہ عنہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک بدترین کمرے میں جابیٹھتی تھی، ایک سال تک وہیں رہتی جب سال پورا ہوجاتا تو باہر نکلتی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20430]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20430، ترقيم محمد عوامة 19630)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 20431
٢٠٤٣١ - قال حميد: فسالت زينب: ما رميها بالبعرة؟ فقالت: كانت امراة في الجاهلية عمدت إلى (شر بيت) (١) لها فجلست فيه سنة، فإذا مرت السنة خرجت ورمت ببعرة من ورائها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (شر بته).
(٢) صحيح.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20431، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 19631 ترقیم الشثری: -- 20432
٢٠٤٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن فضيل (ويزيد) (١) بن هارون عن يحيى ابن سعيد عن نافع عن صفية بنت ابي عبيد انها سمعت حفصة زوج النبي ﷺ (تحدث ان النبي ﷺ) (٢) قال:"لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر ان تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ويديد)، وفي [جـ]: (بريعًا).
(٢) في [س]: سقط.
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٤٩٠)، وأحمد (٢٦٤٥٢).
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے اپنے خاوند کے علاوہ کسی کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ منانا درست نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20432]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20432، ترقيم محمد عوامة 19631)
ترقیم عوامۃ: 19632 ترقیم الشثری: -- 20433
٢٠٤٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن نمير عن هشام عن حفصة عن ام عطية قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا (يحد) (١) على ميت فوق ثلاث إلا المراة تحد على زوجها اربعة اشهر وعشرا، (٢) لا تلبس ثولا مصبوغا إلا ثوب عصب، ولا تكتحل ولا تطيب إلا عند (ادنى) (٣) طهرها (بنبذة من قسط) (٤) او اظفار" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (تحد).
(٢) في [هـ]: زيادة (و).
(٣) في [س]: سقط.
(٤) في [ب، ز، ك]: (ينبذ من طهر)، وفي [أ]: (منذ من طهر).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٤١)، ومسلم (٩٣٨).
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا درست نہیں۔ البتہ عورت اپنے خاوند کا سوگ چار مہینے دس دن تک منائے گی۔ وہ رنگا ہوا کپڑا نہیں پہنے گی، صرف عصب شدہ کپڑا پہن سکتی ہے۔ سرمہ انہیں لگائے گی اور خوشبو بھی نہیں لگائے گی، البتہ اپنے طہر کے قریب ہونے پر قسط اور اظفار خوشبو تھوڑی سی لگا سکتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20433]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20433، ترقيم محمد عوامة 19632)
ترقیم عوامۃ: 19633 ترقیم الشثری: -- 20434
٢٠٤٣٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن التيمي عن ابي (مجلز) (١) قال: قال ابن عمر: المتوفى عنها زوجها تعتد اربعة اشهر وعشرا، فقال رجل: إن هذا لكثير فقال ابن عمر: قد كن في الجاهلية (يحددن) (٢) اكثر من هذا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (مخلد).
(٢) في [ب، جـ، س]: (يحدون).
(٣) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس عورت کا خاوند انتقال کرجائے وہ چار مہینے دس دن عدت گزارے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ یہ بہت زیادہ ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جاہلیت میں عورتیں اس سے بھی زیادہ سوگ منایا کرتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20434]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20434، ترقيم محمد عوامة 19633)
ترقیم عوامۃ: 19634 ترقیم الشثری: -- 20435
٢٠٤٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبيدة عن ابن ابي ليلى عن نافع عن صفية بنت ابي عبيد انها اخبرته انها سمعت ام سلمة وعائشة وحفصة يقلن: قال رسول الله ﷺ:" (لا يحل) (١) لامراة تومن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاثة ايام، إلا على (٢) بعلها، فإنها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: سقطت.
(٢) في [س، ط]: زيادة (زوج بعلها).
(٣) ضعيف؛ ابن أبي ليلى ضعيف، والحديث أخرجه مسلم (١٤٩٠)، وأحمد (٢٥٥١٣).
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہیں مناسکتی، سوائے اپنے خاوند کے، اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ منائے گی [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20435]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20435، ترقيم محمد عوامة 19634)