🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. في بيع الغرر والعبد الآبق
غیرموجود چیزوں او ربھاگے ہوئے غلام کی بیع کابیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20891 ترقیم الشثری: -- 21742
٢١٧٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: إذا اعلمه منه ما كان يعلم منه جاز بيعه ولم يكن له خيار.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب اس چیز کے بارے میں وہ ایسی سب باتیں جان لے جو تم جانتے ہو تو بیع درست ہے اور اسے اختیارنہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21742، ترقيم محمد عوامة 20891)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20892 ترقیم الشثری: -- 21743
٢١٧٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي في رجل اشترى عبدا آبقا وجده او لم يجده، فكرهه وقال: هو غرر.
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کوئی بھاگا ہوا غلام خرید لیا کہ اسے ملے یا نہ ملے، یہ بیع کرنا مکروہ ہے اور یہ غرر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21743، ترقيم محمد عوامة 20892)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20893 ترقیم الشثری: -- 21744
٢١٧٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين قال: لا اعلم ببيع الغرر باسا.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے غیر موجود چیز کی بیع میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21744، ترقيم محمد عوامة 20893)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20894 ترقیم الشثری: -- 21745
٢١٧٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد الله بن عمر عن ⦗٣٨٧⦘ نافع (ان) (١) (ابن) (٢) عمر انه اشترى بعيرا وهو شارد (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عن).
(٢) في [ز]: (أن).
(٣) صحيح.

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بھاگا ہوا اونٹ خریدا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21745، ترقيم محمد عوامة 20894)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20895 ترقیم الشثری: -- 21746
٢١٧٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا اابو سعد) (١) عن ابن جريج عن ابن طاوس عن ابيه انه كان لا يرى باسا ان يشتري الرجل الدابة الغائبة إذا كان قد رآها ويقول: إن كانت صحيحة فهي لي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ط، و]: (سعيد).
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی غائب سواری کو خریدا اور اسے پہلے دیکھ رکھا تھا اور اس بات پر خریدا کہ اگر وہ ٹھیک ہوئی تو میری ہے تو اس بیع میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21746، ترقيم محمد عوامة 20895)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20896 ترقیم الشثری: -- 21747
٢١٧٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان الناس قالوا: (١) ليتنا (قد راينا) (٢) بين عبد الرحمن بن عوف (و) (٣) عثمان بيعا حتى ننظر ايهما اعظم جدا في التجارة، فاشترى عبد الرحمن من عثمان افراسا باربعين الفا و (اشترط عليه) (٤) إن كانت الصفقة (ادركتها) (٥) وهي حية مجموعة إلى الراعي ليست بضالة فقد وجب البيع، ثم جاوز شيئا فقال عبد الرحمن: ما صنعت فرجع إليه فقال: ازيدك ستة آلاف على إن ادركها الرسول وهي حية فعلي، فادركها الرسول وقد نفقت، فخرج عبد الرحمن من الضمان بالشرط الآخر (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (يا).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ز]: (عن).
(٤) في [ط]: (شرط).
(٥) في [أ، حـ]: (أدركتهما)، وفي [س]: (ادركهما).
(٦) صحيح.

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ کاش ہم حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ما کے درمیان ہونے والی بیع کو دیکھ لیں تاکہ ہم جان لیں کہ تجارت میں ان دونوں میں سے کون زیادہ محنت کرنے والا ہے، پھر حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے چالیس ہزار درہم کے بدلے کچھ گھوڑے خریدے اور شرط لگائی کہ جب معاملہ پورا ہو تو سب گھوڑے زندہ ہوں، چرواہے کے پاس جمع ہوں اور گم نہ ہوں، پس جب بیع کا معاملہ طے ہوگیا اور حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ تھوڑا آگے بڑھے تو دل میں خود سے کہا کہ تم نے کیا کیا؟ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف واپس گئے اور ان سے کہا کہ میں تمہارے لئے چھ ہزار زیادہ کردوں گا اگر قاصد ان کو زندہ ہونے کی حالت میں پہنچا دے، پس جب قاصد ان کو لے کر آیا تو ان میں کچھ مرگئے تھے، اس طرح حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ دوسری شرط کے ساتھ ضمان سے نکل گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21747، ترقيم محمد عوامة 20896)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20897 ترقیم الشثری: -- 21748
٢١٧٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن ابن سيرين عن شريح انه كان لا يرى باسا ببيع الغرر إذا كان علمهما فيه سواء.
حضرت شریح غیر موجود چیز کی بیع کو درست سمجھتے تھے اگر دونوں کا علم برابر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21748]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21748، ترقيم محمد عوامة 20897)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20898 ترقیم الشثری: -- 21749
٢١٧٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ان النبي ﷺ نهى عن بيع الغرر (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل، مجاهد تابعي، أخرجه عبد الرزاق (١٤٥٠٦).
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر موجود چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21749]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21749، ترقيم محمد عوامة 20898)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 20899 ترقیم الشثری: -- 21750
٢١٧٥٠ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن إسماعيل عن الحسن، وقتادة عن الحسن ان النبي ﷺ نهى عن بيع الغرر] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من [هـ، أ، حـ، س].
(٢) مرسل، الحسن تابعي.

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر موجود چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21750]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21750، ترقيم محمد عوامة 20899)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں