مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
105. في الرجل يكلم الرجل في الشيء فيهدي له
ایک شخص دوسرے شخص سے کسی بات پر گفتگو کرتا ہے، اور پھر اسے اس کی بنا پر تحفہ (هدیہ) دیتا ہے
ترقیم عوامۃ: 21261 ترقیم الشثری: -- 22135
٢٢١٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو خالد الاحمر عن بن عون عن ابن سيرين قال: جاء عقبة بن (عمرو ابو) (١) مسعود إلى اهله فإذا هدية، فقال: ما هذا؟ فقالوا: الذي شفعت له، فقال: اخرجوها، اتعجل اجر شفاعتي في الدنيا (٢) ؟.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) حسن؛ أبو خالد صدوق.
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو أبو مسعود رحمہ اللہ اپنے گھر تشریف لے گئے وہاں پر ہدیہ موجود تھا، آپ رحمہ اللہ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی سفارش کی تھی اس کی طرف سے ہدیہ ہے، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس کو گھر سے باہر نکال دو، کیا میری سفارش کا اجر مجھے دنیا میں جلدی دینا چاہتے ہیں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22135، ترقيم محمد عوامة 21261)
ترقیم عوامۃ: 21262 ترقیم الشثری: -- 22136
٢٢١٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمار عن سالم عن مسروق قال: سالت عبد الله عن السحت فقال: الرجل يطلب الحاجة (للرجل) (١) فيهدي إليه فيقبلها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ]، وفي [أ، جـ]: (يطلب الرجل الحاجة)، وفي [ط]: زيادة (فتقضى له)، وانظر: تفسير ابن جرير (٦/ ٢٣٩).
(٢) صحيح.
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے رشوت کے متعلق دریافت کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کوئی ضرورت طلب کرے اور اس کے لئے فیصلہ کروا دے اور وہ اس کو کوئی ہدیہ دے تو اس کو چاہیے کہ ہدیہ قبول کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22136، ترقيم محمد عوامة 21262)
ترقیم عوامۃ: 21263 ترقیم الشثری: -- 22137
٢٢١٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن كليب بن (وائل) (١) قال: قلت لابن عمر: اتاني دهقان عظيم الخراج فقال: (تقبلني) (٢) من العامل، لا ⦗٤٦٩⦘ اتقبله (لاعطي) (٣) عنه شيئا إلا ليؤمنه عامله ويضطرب في حوائجه (٤) ، فلم البث إلا قليلا حتى اتاني بصحيفتي (٥) ، فقلت: جزاك الله خيرا، وحملني على دابة (واعطاني دراهم) (٦) وكساني، فقال: ارايت (٧) لو لم (تقبله) (٨) (اكان) (٩) يعطيك؟ (قلت: لا) (١٠) ، قال: لا، (يصلح) (١١) لك (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (وايل).
(٢) أي: اكفلني، وفي [ك]: (تقياني).
(٣) في [جـ، ط، و]: (لا أعطى).
(٤) أي أن سبب كفالتى له عدم إكثار العامل من مطالبته، وليتمكن الدهقان من قضاء حوائجه، وليست كفالتي له من أجل الحصول على المال.
(٥) أي صحيفة الوكالة.
(٦) في [أ، جـ، س، هـ]: (آتاني درهمًا).
(٧) في [جـ]: زيادة (أن).
(٨) في [هـ]: (تتقلبه).
(٩) في [أ، ح، هـ]: (كان).
(١٠) سقط من: [جـ، و].
(١١) في [س، هـ]: (يصح).
(١٢) حسن؛ كليب صدوق.
حضرت کلیب بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا جس کا بہت سارا خراج بنتا تھا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ عامل سے میری سفارش کردیجیے۔ میں اس کی سفارش اس لیے نہیں کرتا کہ مجھ کو اس سے کچھ ہدیہ وغیرہ مل جائے۔ صرف اس لیے تاکہ عامل کو اس دیہاتی پر اعتماد ہوجائے اور عامل اس کی ضروریات کو پورا کردیا کرے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہی گذری تھی کہ وہ میرے پاس میرا صحیفہ لے کر آیا اور کہا جزاک اللہ خیراً اور مجھے سواری پر بٹھایا اور مجھے اور درہم دئیے اور کپڑے پہنائے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے اگر تو اس کی سفارش نہ کرتا تو وہ تجھے یہ عطاء کرتا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تیرے لئے ٹھیک اور درست نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22137، ترقيم محمد عوامة 21263)
ترقیم عوامۃ: 21264 ترقیم الشثری: -- 22138
٢٢١٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن (الحسن) (١) قال: (اتى) (٢) دهقان من دهاقين سواد الكوفة عبد الله بن جعفر يستعين به في شيء على علي، (قال) (٣) : فكلم له عليا فقضى له حاجته، قال: فبعث إليه الدهقان باربعين الفا وبشيء معها لا ادري ما هو؟ فلما وضعت بين يدي عبد الله بن جعفر قال: ما هذا؟ قيل له: بعث بها الدهقان الذي كلمت له في حاجته امير المؤمنين، قال: ردوها عليه، فإنا اهل بيت لا نبيع المعروف (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (محمد).
(٢) في [ز]: (أتاني)، وفي [ح]: (أتاه).
(٣) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٤) منقطع؛ الحسن لا يروي عن علي ولا عبد اللَّه بن جعفر.
حضرت حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوفہ کے گاؤں کے چودھریوں میں سے ایک چودھری حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ حضرت عبداللہ بن جعفر سے علی رضی اللہ عنہ کے خلاف مدد مانگ (کوئی سفارش) مانگ رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی سفارش کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت پوری فرما دی، چودھری نے آپ کو چالیس ہزار درہم ہدیہ میں بھیجے اور اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، جب وہ سب کچھ حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس چودھری کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سفارش فرمائی تھی اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بھیجا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واپس اس کو بھیج دو، ہم اہل بیت نیکی فروخت نہیں کیا کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22138، ترقيم محمد عوامة 21264)